کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے دوسرے پر مشین مبلغ اٹھارہ ہزار روپے میں فروخت کی، لیکن اسے یہ خدشہ تھا کہ شاید یہ شخص اس کی بر وقت ادائیگی نہ کر سکے، اس لئے اس نے ضامن کا مطالبہ کیا جو اسے دیدیا گیا، بعد میں مقررہ مدت گزرنے کے بعد وہ شخص (خریدار) واقعۃً قیمت ادا نہ کر سکا، اس دوران تین سال کا عرصہ گزر گیا، اب بائع کا کہنا ہے کہ چونکہ تم نے بروقت قیمت ادا نہیں کی، اس لئے اب یہ رقم تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے، لہٰذا تم مجھے تین لاکھ روپے ادا کرو، اور ضامن سے اس رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے، کیا اس شخص (بائع) کا یہ مطالبہ درست ہے؟ کیا اس کے لئے اٹھارہ ہزار کے بجائے تین لاکھ وصول کرنا درست ہے؟ براہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔
صورتِ مسئولہ میں بوقتِ عقد جو قیمت طے کی گئی تھی، خریدار اور ضامن پر اتنی ہی قیمت کی ادائیگی لازم ہے، اگرچہ بلاوجہ تاخیر اور بائع کو پریشان کرنے کی وجہ سے وہ وعدہ خلافی اور ایذاء رسانی کے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، مگر بائع کا ان سے طے شدہ رقم سے زائد کا مطالبہ درست نہیں، اس س احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً﴾ (آل عمران: 130)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1