کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ پر : سعودی عرب میں میرے بہنوئی کے بھائی کے 8000 ریال گھر سے چوری ہوگئے تھے اور اس کو اپنے بھتیجے پر شک تھا ۔ بھتیجے کی عمر 17 سال ہے، جب بھتیجے سے پوچھا گیا تو اس نے منع کر دیا کہ میں نے نہیں لئے اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ الفاظ استعمال کہے (میں نے آپ کے 8000 ریال نہیں لئے) اور ہاتھ ہٹا دیا، لیکن بعد میں ماں باپ نے اکیلے میں پیار سے بٹھاکر پوچھا تو بچے نے کہا کہ میں نے 8000 ریال نہیں لئے، ہاں 500 سے 1000 ریال لئے تھے ایک بار،مزید یہ کہ میرے بہنوئی نے ان کو 8000 ریال کی رقم اپنے پاس سے دے دی ہے، کیونکہ گھر کا ماحول بہت خراب ہو رہا تھا۔
لہذا علماء کرام سے دو سوال ہیں : (1) کیا قسم جھوٹی کہلائے گی اور قسم کا کفارہ دینا ہوگا۔ کیونکہ بچے نے 8000 ریال نہیں چوری کیئے، (2) رقم ہم نے پھر بھی دے دی ہے گھر کا ماحول کو بچانے کے لئے اور شک کی بنا پر تو کیا اللہ پاک اس کا عذاب تو نہیں دے گا ؟
واضح ہوکہ قرآنِ مجید پر صرف ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنا قسم میں داخل نہیں، جب تک قسم کے الفاظ ادا نہ کر لیے جائیں، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائل کے بہنوئی کے بھتیجے نے قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھ کر صرف یہ الفاظ ”میں نے آپ کے 8000 ریال نہیں لئے “ ادا کیے ہوں، تو یہ قسم کی اقسام میں داخل نہیں، اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ لازم ہے، مگر چونکہ چوری کا وہ خود اعتراف کر چکا ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرے ،جبکہ والد کو بھی چاہیئے کہ اولاد کی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دے اور تربیت کے حوالے سے بالکل بھی لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کرے، تاکہ اس سے زیادہ ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آ ئے ۔جبکہ بہنوی نے لڑائی جھگڑے کو ختم کرنے کے لیےآٹھ ہزار ریال کی جو رقم دی ہے تو اس کی وجہ سے کوئی گناہ لازم نہیں آئیگا۔
کمافی الصحیح للبخاری: عن عبد الله بن عمرو، عن النبیّ ﷺ قال: الكبائر الإشراك بالله، و عقوق الوالدين، و قتل النفس، و اليمين الغموس اھ (كتاب الأيمان و النذور، باب: اليمين الغموس، ج 4، ص 2935، رقم: 6675، ط: البشری)-
وفی الدر المختار: و رکنھا اللفظ المستعمل فیھا، و ھل یکرہ الحلف بغیر اللہ تعالی ؟ قیل نعم للنھی وعامتھم لا، و بہ أفتوا لا سیّماً فی زماننا الخ (کتاب الأیمان، ج 3، ص 704، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الدر المختار: (غموس) تغمسه فی الإثم ثم النار، وهی كبيرة مطلقا، لكن إثم الكبائر متفاوت نهر (إن حلف على كاذب عمدا) ولو غير فعل أو ترك كوالله إنه حجز الآن في ماض (كوالله ما فعلت) كذا (عالما بفعله أو) حال (كوالله ما له علی ألف عالما بخلافه والله إنه بكر عالما بأنه غيره) وتقييدهم بالفعل والماضی اتفاقی أو أكثری (ويأثم بها) فتلزمه التوبة الخ
وفی الرد: تحت (قوله: ويأثم بها) أی إثما عظيما كما فی الحاوی القدسی، مطلب فی معنى الإثم، والإثم فی اللغة: الذنب، وقد تسمى الخمر إثما، وفی الاصطلاح عند أهل السنة استحقاق العقوبة، (قوله: فتلزمه التوبة) إذ لا كفارة فی الغموس يرتفع بها الإثم فتعينت التوبة للتخلص منه الخ(کتاب الأیمان، ج 3، ص 705-706، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الدر: قال الكمالؒ: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا، وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف، وقال العينیؒ: وعندی أن المصحف يمين لا سيما فی زماننا، وعند الثلاثة المصحف والقرآن وكلام الله يمين، الخ (کتاب الأیمان، ج 3، ص 712-713، ط: ایچ ایم سعید)-
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1