السلام علیکم!
میرے ماموں نے میرے والد کو تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے سہولت کے لئے قرض دیا جب وہ اپنا گھر تعمیر کر رہے تھے ,اس طور پر کہ میرے ماموں نے انہیں مدد کی پیش کش کی گھر تعمیر ہونے کے بعد میرے والد سخت بیمار ہو گئے اور وہ دوبارہ کمائی کرنے کے قابل نہ رہے گھریلو اخراجات ان کی کچھ بچتوں اور ضرورتاً بیچی گئی کچھ زمین سے پورے ہو رہے تھے، لیکن ہم اتنا بڑا قرض ادا نہ کر سکے ، اس بات کو دس سال ہو گئے ہیں ہم ابھی تک قرض واپس کرنے کے قابل نہیں ہوئے , میرا بھائی ایک کاروبار شروع کر چکا ہے اور ہمیں امید ہے کہ یقیناً اس کے نتیجے میں قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ آمدن ہو جائے گی، جبکہ ہم اس بات پر بھی راضی ہیں کہ گھر بیچ کر قرضہ ادا کیا جائے اور ہم کسی دوسری جگہ چلے جائیں ، ہمیں اس صورت میں جلد از جلد قرض کی خلاصی کے لئے کیا کرنا چاہئیے ، دو خاندانوں کے درمیان تعلقات کئی سالوں سے سرد مہری کا شکار ہیں۔
اگر ماموں کی طرف سے تقاضا شدید ہو اور مزید تاخیر کی مہلت اور گنجائش نہ دی جا رہی ہو اور وقتی طور پر اتنی رقم کا بلا سود انتظام بھی نہ ہو رہا ہو تو اس صورت میں بہتر ہے کہ مذکور مکان کو فروخت کر دیا جائے اور ماموں کا قرض دینے کے بعد بقیہ رقم سے کوئی دوسرا کم قیمت والا مکان خرید لیا جائے اور اس میں رہائش رکھی جائے ۔ اور اگر مہلت مل سکتی ہو تو آپ کے دیگر تمام بھائیوں کو محنت و کوشش کر کے اپنے والد کے اس قرض کو فوری طور پر اتارنے کی کوشش کرنی چاہئیے اور ساتھ ساتھ درجِ ذیل وظائف کی پابندی بھی برکت و سہولت کا سبب ہوگی ان کا اہتمام بھی چاہئیے، وہ یہ ہیں: نماز فجر کے بعد گیارہ مرتبہ ’’اللَّهُمَّ إِني أعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمّ والحُزن، وأعُوذُ بِكَ مِنَ العَجْزِ والكَسَلِ، وأعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ والبُخلِ، وأعوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرّجالِ‘‘ اور نماز عصر کے بعد سورہ مزمل ایک مرتبہ اور یا قوىُّ يا عزيز يَا رَزَّاقُ يَا وَدُودُ يَا رُوف يا رحیم ۳۱۳ مرتبہ پڑھ کر خوب توجہ و دھیان سے دعا کریں اور چالیس دن تک اس عمل کا اہتمام رکھیں انشاء اللہ بہت جلد اس قرض سے خلاصی کی صورت بن جائے گی۔