کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اورمفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی بیوی پر شک کررہا تھا اور میں اس سے پوچھ رہا تھا کہ کیا فلاں کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ تو وہ صحیح سے بتا نہیں رہی تھی تو اس دوران میں نے اسے دھمکانے کے لئے یہ کہا ایک ،دو،تین میری ان کلمات کے کہنے سے ہرگز طلاق کی نیت نہیں تھی بلکہ میں نے یہ جملہ اس وجہ سے کہا تاکہ وہ حقیقت بیان کردے،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس جملے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنائیت فرمائیں ۔
ایک،دو،تین عدد ہیں اور گنتی کےلئے وضع ہیں نہ کہ طلاق کےلئے،اس لئے اگر کوئی شخص فقط یہی گنتی کےاعداداستعمال کرےتواس سےطلاق واقع نہیں ہوتی ،لہذااگر واقعۃً سائل نے اپنی بیوی کو دھکمانے کے لئے فقط یہی ایک دوتین کہاہو اس کے ساتھ طلاق کا لفظ نہ کہا ہو تو اس سے سائل کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار ہے ۔
کما فی الشامیۃ:(قوله: و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها: أنت طالق ثلاثًا طلقت ثلاثًا، و لو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد، و من أنه لو قال: أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء و لو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلًا فوقع.‘‘
(کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا ، ج:3، ص:287، ط:سعید)