میں نے 2 شادیاں کی ہوئی ہیں ،دونوں بیویاں ساتھ ہیں ،اچانک کاروبار میں نقصان ہو گیا ہے ،دونوں بیگمات کے زیور ادھار لے رہا تھا کہ کاروبار ٹھیک کر سکوں ،پہلی بیوی راضی ہے ،جبکہ دوسری پہلے راضی تھی ،اب اس کی ماں زیور نہیں دے رہی .میں نے ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا ،کروڑوں روپے ان پر لگائے ،مگر میرے مشکل وقت میں دوسری بیوی میرا ساتھ نہیں دے رہی ،اس کا اور میرا تكرار ہمیشہ اس بات پر رہتا ہے ،وہ کہتی ہے فلاں نے حساب میں بتایا کہ ایسا کرو ،ویسا نہ کرو، اس میں فائده، اس میں نقصان ،میرے بار بار منع کرنے پر بھی وہ میرا ساتھ نہیں دے رہی اور عاملوں کے کہنے پر چلتی ہے، کیا اسے طلاق دینے میں ہی بہتری ہے یا کیا کروں ؟کچھ سمجھ نہیں آرہی. اور ایسے ایسے الزام لگاتی ہے مجھ پر ،میری برداشت سے باہر ہیں، طلاق دینی چاہئے یا نہیں ؟ہر طرح سے سمجھا چکا ہوں
صورت مسؤلہ میں زیور اگر بیوی کی ملکیت ہو تو سائل کا اسے زیور دینے پر مجبور کرنا اور نہ دینے کی صورت میں طلاق کا اقدام کرناشرعا جائز نہیں جس سے اسے احتراز لازم ہے ،تاہم اگر طلاق دینے کی اس کے علاوہ بھی کوئی اور وجہ ہو ،تب بھی حتی الامکان معاملہ کو افہام وتفہیم کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، طلاق کو شریعت میں ابغض المباحات قراردیا گیا ہے ،یعنی مباح چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز،لہذا سائل کو سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافى الهندية: (وأما وصفه) فهو أنه محظور نظرا إلى الأصل ومباح نظرا إلى الحاجة كذا في الكافي.(ج:١،ص:٣٤٨)
وفى الشامى: وَأَمَّا الطَّلَاقُ فَإِنَّ الْأَصْلَ فِيهِ الْحَظْرُ، بِمَعْنَى أَنَّهُ مَحْظُورٌ إلَّا لِعَارِضٍ يُبِيحُهُ، وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِمْ الْأَصْلُ فِيهِ الْحَظْرُ وَالْإِبَاحَةُ لِلْحَاجَةِ إلَى الْخَلَاصِ(ج:٣،ص:٢٢٨)
وفى الهداية: فالأحسن أن يطلق الرجل امرأته تطليقة واحدة في طهر لم يجامعها فيه ويتركها حتى تنقضي عدتها.(ج:١،ص:٢٢١)