السلام علیکم امید ہے آپ ٹھیک ہونگے ۔ تقریباً دو سال پہلے میرے ماموں کی اہلیہ ہمارے گھر آئی تھی میں تقریباً سولہ سال کا تھا ۔انہوں نے مجھے کہا کہ میرے کندھے دباؤ مجھے اس وقت حرمت مصاہرت مسئلہ کا علم نہیں تھا میں نے ان کے کندھے دبانا شروع کیے میرے ہاتھ اور ان کے جسم کے درمیان کوئی کوئی کپڑا نہیں تھا میں شک میں ہو کے میری خواہشات ابھری یا نہیں یہ مجھے یاد نہیں اور شہوت پیدا ہوئی یا نہیں یہ مجھے یاد نہیں کبھی دل کہتا ہے کہ شہوت پیدا ہوئی تھی تو کبھی کہتا ہے نہیں ہوئی تھی اور یہ بھی یاد نہیں صحیح طرح کہ آلہ تناسل میں حرکت ہوئی تھی کہ نہیں میں بہت پریشان ہو میں ان کی بیٹی کو پسند کرتا ہوں ۔ میں ان کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ رکھتا ہوں اس صورت میں میرے لیے کیا حکم ہوگا اس صورت میں اگر ممانی کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ شک کی بنیاد پر حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی براہ مہربانی وضاحت کر دیں۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا میں نے ایک معروف عالم دین سے سنا ہے کہ جو کوئی حرام کو حلال سمجھ کرکرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے اگر فتویٰ میں مجھے نکاح کرنے کی اجازت مل جائے تو جو میں نے اوپر لکھا کہ حرام کو حلال سمجھ کرکرنا اس میں میرے لیے کیا حکم ہوگا کیا میرا نکاح جائز ہوگا اور اسکی شرعی حیثیت کیا ہے کیا میرا نکاح صحیح شمار کیا جائے گا اور میرے رشتے کو کوئی نقصان تو نہیں ہوگا۔اور حرام کو حلال سمجھ کر کرنے والی صورت کا میرے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں ہو گا اور میرے ایمان کو کوئی نقصان تو نہیں براہ مہربانی وضاحت فرمائیں جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لئے کسی خاتون کو ہاتھ لگاتے وقت بلاحائل (کسی کپڑے وغیرہ کے بغیر ) ہاتھ لگانے یا کسی کپڑے کے ساتھ ہاتھ لگاتے وقت جسم کی حرارت کا محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ شہوت کا ہونا بھی ضروری ہے، اس کے بغیر حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی،لہذا سائل کا اپنے ممانی کے کندھے دباتے وقت اسے شہوت کا ہونا یقینی طور پر یاد نہ ہو، تو محض شک کی وجہ سے حرمت مصاہرت کا حکم ثابت نہ ہوگا۔اس لئے سائل کا مذکور ممانی کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا شرعا ممنوع نہیں اور نہ ہی اس نکاح کو حلال سمجھ کر کرنے کی وجہ سے سائل سوال میں مذکور وعید کا مستحق ہوگا۔ تاہم اگر مذکور ممانی کی بیٹی کے ساتھ ابھی تک سائل کا نکاح نہ ہوا ہو، اور اس سلسلہ میں سائل ذہنی طور پر بھی متردد ہو تو احتیاطا یہاں نکاح نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ بعد میں ازدواجی زندگی کی یکسوی متاثر نہ ہو۔
کمافی الدر المختار: "وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته أراد بالزنافي الوطء الحرام و أصل ممسوسته بشهوة ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة.......قوله: بحائل لا يمنع الحرارة أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب."(کتاب النکاح ،فصل في المحرمات،جلد:3، صفحہ:32،33،طبع:ایچ ایم سعید)
وفیه ایضا: وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنهاية تبعا، لما في رضاع الخانية: لو شهدت به امرأة قبل النكاح فهو في سعة من تكذيبها، لكن في محرمات الخانية إن كان قبله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه وبه جزم البزازي معللا بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسهل من الرفع.(3/ 224)
وفی الاشباہ و النظائر: القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك ودليلها ما رواه مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعا {إذا وجد أحدكم في بطنه شيئا فأشكل عليه أخرج منه شيء أم لا فلا يخرجن من المسجد حتى يسمع صوتا، أو يجد ريحا اھ(الفن الاول، القواعد الکلیة، صفحہ:48، طبع:دار الکتب العلمیة)