السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!مجھے حال ہی میں پتہ چلا کہ میرا شوہر شرابی ہے اور شراب پیتا ہے۔ اسلام کے مطابق کیا مجھے اس کے ساتھ رہنے کی اجازت ہے یا اگر میں خلع مانگوں تو گناہ ہوگا؟ براہ کرم مشورہ دیں۔
سائلہ کو چاہیے کہ اس معاملہ میں جلد بازی سے کام نہ لے، بلکہ صبر وتحمل سے کام لیتے ہوئے شوہر کو پیارو محبت اور حکمت وبصیرت کے ساتھ سمجھانے کی پوری کوشش کرے، اگر از خود سمجھانا مشکل یا غیر مفید ہو تو خاندان کے معزز افراد کے ذریعہ اس کو سمجھانے کی کوشش کرتی رہے اور ساتھ ساتھ اس کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کا بھی اہتمام کرے، تاہم اگر شوہر سائلہ کے حقوق (نان نفقہ وغیرہ) ادا کررہا ہو تو سائلہ کے لیے صرف اس وجہ سے اس سے طلاق یا خلع لینا درست نہیں۔
لیکن اگر اس کی وجہ سے شوہر نان نفقہ اور دیگر حقوق ادا نہ کررہا ہو اور ہر وقت کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے دونوں کا حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو مزید آگے چلانا ناممکن ہو تو ایسی صورت میں سائلہ شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ جدائی اختیار کرسکتی ہے اور اس صورت میں وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
ففی الدر المختار: وفي آخر حظر المجتبى لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اھ (3/ 50)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: تطليق الفاجرة) الفجور العصيان كما في المغرب (قوله: ولا عليها) أي بأن تسيء عشرته أو تبذل له مالا ليخالعها. (قوله: إلا إذا خافا) استثناء منقطع؛ لأن التفريق حينئذ مندوب بقرينة قوله فلا بأس اھ (3/ 50)