السلام علیکم ورحمت الله وبرکاتہ! براہِ کرم میرا ایک اہم شرعی مسئلہ قرآن و سنت کی روشنی میں حل فرما دیں۔ میری شادی کو 9 سال ہو چکے ہیں، ایک بیٹا (6 سال) اور ایک بیٹی (1 سال) ہے۔ شروع میں تعلق بہتر تھا، مگر پچھلے 2 سال سے شوہر کا رویہ بدل گیا ہے۔ وہ اکثر نشے کی حالت میں بدتمیزی اور مارپیٹ کرتا رہا ہے، اور کئی بار طلاق کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔ پھر 24 دسمبر 2024 کو ایک موقع پر، نشے کی حالت میں اُس نے مجھے شدید مارا اور واضح الفاظ میں "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہا۔ مارپیٹ کی ویڈیو موجود ہے، لیکن طلاق کے الفاظ کی نہیں۔ اُس وقت 2 مرد اور 2 خواتین موجود تھیں، جو پہلے اس بات کی گواہی دے رہے تھے، مگر اب وہ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ شوہر عام طور پر طلاق کا اقرار کرتا ہے، مگر قاضی کے سامنے انکار کرتا ہے، قاضی صاحب کہتے ہیں کہ وہ گواہی اور اقرار کی بنیاد پر ہی فیصلہ کر سکتے ہیں، میری طرف سے نیت طلاق لینے کی نہیں ہے، میں صرف شرعی رہنمائی چاہتی ہوں تاکہ جھوٹ سے بچ سکوں اور اپنے بچوں کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ: کیا شرعاً طلاق واقع ہوئی؟ اگر شوہر قاضی کے سامنے انکار کرے، اور گواہ بھی مکر جائیں، تو کیا بیوی کا بیان کافی ہو سکتا ہے؟ ایسی صورت میں بیوی کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیئے ؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق اُصولی جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،اور سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائلہ پر عائد ہوتی ہے۔ اس تمہید کے بعد واضح ہو جب ایسی صورت حال ہو جائے کہ عورت الفاظِ طلاق اپنے کانوں سے سننا بیان کر رہی ہو ،اور اُسے بخوبی یاد بھی ہو، اور اس کا یہ بیان واقعۃً درست بھی ہو کہ اس کے خاوند نے اُسے تین طلاقیں دیدی ہیں،مگر اس کے پاس موقع کا کوئی گواہ نہ ہو اور شوہر بھی منکر ہو ۔ البتہ عورت اپنے بیان پر حلف اٹھا سکتی ہو، اور آخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہو۔ تو ’’المرأة کا لقاضی‘‘ کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اُسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلّقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو ہر گز اپنے اوپر قدرت نہ دے ۔ البتہ اگر یہ معاملہ قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور عورت اپنے دعوی پر گواہ پیش نہ کر سکے اور قاضی مدعی علیہ (منکر) یعنی خاوند کی قسم پر بیوی کے خلاف اور شوہر کے حق میں عدمِ طلاق کا فیصلہ دے کر اُسے خاوند کے ساتھ بھیج دے۔تو اُس صورت میں وہ اگر چہ گنہگار نہ ہوگی، لیکن جب اُسے تین طلاقیں اپنے کانوں سے سننا واقعۃً یاد ہو تو حتی الامکان اُسے حلالۂ شرعیہ سے قبل اپنے اوپر قدرت نہ دے بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرلے۔
کما فی رد المحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 251، ط: سعید)۔