کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے مجھے کتابیں ہبہ میں دے دی اور ا س کے ساتھ ساتھ اُس نے یہ بھی کہا کہ اس کا بیچنا ممنوع ہے ، اب کیا میں ضرورت کی وجہ سے اس کو تبدیل یا بیچ سکتا ہوں یا نہیں؟ بینوا تؤجرو
مذکور ہبہ درست ہو چکا ہے۔ اور آگے نہ بیچنے کی شرط باطل ہے ۔ لہذا بوقتِ ضرورت اس کتاب کو تبدیل کروا کر یا بیچ کر اپنی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔
کمافی الھدایۃ: قال: "فإن وهبها له على أن يردها عليه أو على أن يعتقها أو أن يتخذها أم ولد أو وهب دارا أو تصدق عليه بدار على أن يرد عليه شيئا منها أو يعوضه شيئا منها فالهبة جائزة والشرط باطل". لأن هذه الشروط تخالف مقتضى العقد فكانت فاسدة، والهبة لا تبطل بها اھ(3/228)۔