السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
میں۔۔۔۔۔، ساکن آغا بدر دین کالونی، نیو پنڈ، سکھر، مؤدبانہ طور پر دارالافتاء سے ایک اہم مسئلہ کے متعلق شرعی رہنمائی کا طالب ہوں۔
میری شادی محترمہ۔۔۔۔سے مورخہ 25 جنوری 2025 کو ہوئی۔ ازدواجی زندگی میں معمولی اختلافات کے باوجود میں نے کبھی طلاق دینے کا ارادہ نہیں کیا۔کچھ عرصہ قبل میں اپنی بیوی کو کراچی اپنے سسرال سے لینے گیا، مگر میرے سسرال والوں نے میری بیوی کو میرے ساتھ بھیجنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں میرے سسر کے بھائی اور ساس کے ماموں نے میرے اوپر دباؤ ڈال کر طلاق کے کاغذات بنوائے اور زبردستی ان پر دستخط کروائے۔ نہ میں طلاق دیناچاہتا تھا، نہ میرے دل میں اس کا ارادہ تھا، نہ ہی میں نے زبانی طلاق دی۔یہ دستخط میری رضا مندی، ارادے اور نیت کے بغیر زبردستی لیے گئے، جو میری معلومات کے مطابق شرعی اور قانونی لحاظ سے معتبر نہیں۔ مزید برآں، میں نے طلاق سے متعلق نہ یونین کونسل کو اطلاع دی اور نہ ہی میری طرف سے کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔اس کے علاوہ، میں اور میری بیوی نے اس واقعے کے بعد باہمی رضا مندی سے پانچ دن کے اندر اندر رجوع بھی کر لیا تھا۔لہٰذا میں دارالافتاء سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ درج بالا صورتِ حال کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا یہ طلاق شرعی طور پر واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اس طرح زبردستی حاصل کردہ دستخط کی کیا حیثیت ہے؟
سائل نے زبردستی سے لئے جانے والے دستخط کی مکمل وضاحت نہیں لکھی کہ کس طرح سائل کو مجبور کیا گیا ،نیز طلاق نامہ میں کتنی طلاقیں درج تھیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا تاہم اگر زبردستی اس طور پر ہو جس میں جان سے مارنے یا کسی عضو کے تلف کی صورت نہ ہو بلکہ صرف سائل پر پریشر ڈالا ہو اور اس نے طلاق نامہ پر دستخط کردیا ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج طلاقیں واقع ہوچکی ہیں