ہمارا لنڈے کے کپڑوں کا کاروبار ہے اور یہ مال باہر کے ملک سے پاکستان آتا ہے، گزشتہ روز ایک دوست سے ’’ اوکشن‘‘کے کنٹینر آفر کے لئے ، اور اوکشن وہ مال ہوتا ہے جو حکومت نے ضبط کر لیا ہوتا ہے ، حکومت یہ مال لنڈے کا ہو یاکسی اور چیز کا تب ضبط کر لیتی ہے، جب مال منگوانے والا اس کے کسٹم (custom) کے اخراجات مثلا ڈیوٹی وغیرہ ادا کرنے سے انکار کر دے، ایسی صورت میں حکومت اس شخص کا مال ایک مخصوص مدّت کے بعد ضبط کر لیتی ہے، اور اپنے اخراجات جو اکثر اس مال کی قیمت سے بھی بڑھی ہوتی ہیں، اسے بیچ کر پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے ، اس میں بھی وہ پہلے اس اصل مال والے سے رابطہ کرتی ہے کہ شاید وہ اسے خرید لے، پھر اگر وہ نہ خریدے تو نیلام کرتی ہے۔ اب جو شخص زیادہ ریٹ دیتا ہے مال اس کو مل جاتا ہے ، میرا دوست ایسے لوگوں کے مال کی بروکری کرتا ہے، جس کا وہ اصل مال ہو تا ہے ، اس کے مال کو کلیئر (clear) نہ کرانے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، مثلا ڈیوٹی کا اچانک بڑھ جانا یاڈالر کاریٹ بڑھ جانا ، اخراجات کا مال کی قیمت سے بہت تجاوز کرنا یا جس سے مال منگوایا ہے اس کے ساتھ مال کی شکایت ہو نا یا کبھی باہر کی کمپنیاں خود سے مال بھیج دیتی ہیں، اب کیا ایسا مال اس شخص سے خرید نا جس نے حکومتی اوکشن میں خریدا، کیا یہ مال میرے لئے لینا درست ہو گا ؟
نوٹ : جس کا مال ضبط ہوا اسے حکومت کا یہ قانون بالکل معلوم ہوتا ہے، یہ سب کے ساتھ عام ہے ، پورٹ کنٹینر ز کا ایک مضبوط نظم وضبط ہوتا ہے ، اور ہر مال کی ڈیوٹی اور خرچے سب کو پتہ ہوتا ہیں، اور جب کسی کا مال ضبط ہو نے جار ہا ہو تا ہے تو اس کا ذہن پہلے سے تیار ہوتا ہے۔
واضح ہو کہ باہر ممالک سے درآمد شدہ مال کی اگر قانوناً اجازت ہو اور حکومت نے اس پر ڈیوٹی (ٹیکس) عائد کر دی ہو تو چونکہ حکومت کے لئے بعض صورتوں میں ٹیکس عائد کرنا جائز ہے، لہذا اگر یہ فٹکس بقدرِ ضرورت ہو اور معقول ہو اور لوگوں کے لئے قابل برداشت ہو اور وصول کرنے کا طریقہ بھی ایذاء رسانی کا نہ ہو تو حکومت کے لئے ایسا ٹیکس لگانا جائز ہے ، اور ایسی صورت میں امپورٹر کو وہ ٹیکس ادا کر دینا چاہئیے ، تاہم اگر وہ ٹیکس ادانہ کرے اور اس کی وجہ سے مروّجہ قانون کے مطابق اس کے مال پر جرمانہ عائد کیا جائے تو اگر امپورٹر اسے مقرّرہ مدت میں ادا کر دے تو پھر اس مال کو اصل مالک کو لوٹانا لازم ہو گا ، اگر امپورٹر جرمانہ ادا کر کے اپنا مال وصول ہی نہیں کرتا تو حکومت کے لئے اس کو نیلام کر کے ٹیکس کی رقم وصول کرنے کی گنجائش ہے، اور ایسی صورت میں سائل کے لئے نیلام شدہ مال کو خریدنا اور اپنے استعمال میں لانا بھی جائز ہے۔
كما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: وفي شرح السنة: هذا الحديث أصل في الورع، وهو أن ما اشتبه أمره في التحليل والتحريم ولا يعرف له أصل متقدم، فالورع أن يتركه ويجتنبه، فإنه إذ لم يتركه واستمر عليه واعتاده جر ذلك إلى الوقوع في الحرام، فلو وجد في بيته شيئا لا يدري هل هو له أو لغيره فالورع أن يجتنبه ولا عليه إن تناوله لأنه في يده، ويدخل في هذا الباب معاملة من في ماله شبهة أو خالطه ربا، فالأولى أن يحترز عنها ويتركها، ولا يحكم بفسادها ما لم يتيقن أن عينه حرام اھ (5/ 1894)۔
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ اهـ (4/ 61)۔
وفيه ايضاً: (قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة اھ (5/ 422)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1