میری خالہ نے غلطی سے نیند میں بیڈ پر موجود اپنے بچے کے بجائے مجھے دودھ پلادیا تھا اور دیکھ کر ہٹا دیا تھا جب کہ نیت دودھ پلانے کی ہرگزنہ تھی،اور میری خالہ اس دنیا فانی سے رحلت فرما گئی ہے، اور میں اس وقت بچہ تھا ،عمر کا بھی نہیں پتہ، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ دودھ پیا ہے یا نہیں ۔ کیا میں ان کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہوں ؟جبکہ شادی کے کے دن قریب ہیں ، اوراگر اس کا کوئی کفارہ ہے اس میں بھی رہنمائی فرما ئیں ۔ شکریہ
صورت مسئولہ میں اگر سائل کواسکی خالہ نے مدت رضاعت (ڈھائی سال) کے اندر دودھ پلایا ہو اور دودھ کا معمولی قطرہ بھی یقین کے ساتھ سائل کے پیٹ میں پہنچ گیا ہو اگر چہ سائل کی خالہ نےمعلوم ہوتے ہی اسے سینے سے ہٹادیا ہو تب بھی سائل کا ان سے رضاعت کا رشتہ قائم ہوگیا،اوروہ سائل کی رضاعی ماں اور اسکی اولاد سائل کے رضاعی بہن ،بھائی بن چکے ہیں لہذا اس صورت میں سائل کا اپنی خالہ کی کسی بھی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر سائل کی خالہ کی جانب سے دودھ پلانے کا صرف شک ہو تو محض شک کی بناء پر شرعاً رضاعت ثابت نہیں ہوتی ،پس اس صورت میں سائل کااپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح جائز ہےچونکہ مسئلہ حلال وحرام کا ہے اس لئے سائل کو چاہیئےکہ اپنے خاندان کے بڑوں کے سامنے صحیح صورت حال رکھ کران کے فیصلہ کے مطابق عمل کرلیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
کما فی الدر المختار: (وإن قل) إن علم وصولہ لجوفہ من فمہ أو أنفہ لاغیر فلو التقم الحلمۃ ولم یدر أدخل اللبن فی حلقہ أم لا لم یحرم لأن فی المانع شکا ولوالجیۃ الخ
وفی رد المحتار تحت: وفی فتح: لو أدخلت الحلمة فی فی الصبي وشكت في الارتضاع لاتثبت الحرمة بالشك الخ (باب الرضاع، ج: 3، ص: 212، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: المرأة إذا جعلت ثديها في فم الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت دخل في فم الصبي من الثدي مائع لونه أصفر تثبت حرمة الرضاع لأنه لبن تغير لونه كذا في خزانة المفتين الخ (کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 344، ط: ماجدیہ)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0