رضاعت

رضاعت کے متعلق حکم

فتوی نمبر :
82451
| تاریخ :
2025-05-01
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / رضاعت

رضاعت کے متعلق حکم

میری خالہ نے غلطی سے نیند میں بیڈ پر موجود اپنے بچے کے بجائے مجھے دودھ پلادیا تھا اور دیکھ کر ہٹا دیا تھا جب کہ نیت دودھ پلانے کی ہرگزنہ تھی،اور میری خالہ اس دنیا فانی سے رحلت فرما گئی ہے، اور میں اس وقت بچہ تھا ،عمر کا بھی نہیں پتہ، اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ دودھ پیا ہے یا نہیں ۔ کیا میں ان کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہوں ؟جبکہ شادی کے کے دن قریب ہیں ، اوراگر اس کا کوئی کفارہ ہے اس میں بھی رہنمائی فرما ئیں ۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر سائل کواسکی خالہ نے مدت رضاعت (ڈھائی سال) کے اندر دودھ پلایا ہو اور دودھ کا معمولی قطرہ بھی یقین کے ساتھ سائل کے پیٹ میں پہنچ گیا ہو اگر چہ سائل کی خالہ نےمعلوم ہوتے ہی اسے سینے سے ہٹادیا ہو تب بھی سائل کا ان سے رضاعت کا رشتہ قائم ہوگیا،اوروہ سائل کی رضاعی ماں اور اسکی اولاد سائل کے رضاعی بہن ،بھائی بن چکے ہیں لہذا اس صورت میں سائل کا اپنی خالہ کی کسی بھی بیٹی سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر سائل کی خالہ کی جانب سے دودھ پلانے کا صرف شک ہو تو محض شک کی بناء پر شرعاً رضاعت ثابت نہیں ہوتی ،پس اس صورت میں سائل کااپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح جائز ہےچونکہ مسئلہ حلال وحرام کا ہے اس لئے سائل کو چاہیئےکہ اپنے خاندان کے بڑوں کے سامنے صحیح صورت حال رکھ کران کے فیصلہ کے مطابق عمل کرلیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وإن قل) إن علم وصولہ لجوفہ من فمہ أو أنفہ لاغیر فلو التقم الحلمۃ ولم یدر أدخل اللبن فی حلقہ أم لا لم یحرم لأن فی المانع شکا ولوالجیۃ الخ
وفی رد المحتار تحت: وفی فتح: لو أدخلت الحلمة فی فی الصبي وشكت في الارتضاع لاتثبت الحرمة بالشك الخ (باب الرضاع، ج: 3، ص: 212، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: المرأة إذا جعلت ثديها في فم الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت دخل في فم الصبي من الثدي مائع لونه أصفر تثبت حرمة الرضاع لأنه لبن تغير لونه كذا في خزانة المفتين الخ (کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 344، ط: ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82451کی تصدیق کریں
0     460
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • عورت نے شیرخوار بچے کے منہ میں پستان دیا پھر اس کا کہنا کہ بچے نے دودھ نہیں پیا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • بچی کا بڑی عمر کی عورت کی چھاتی منہ میں لینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • مدت رضاعت کے بعد دودھ پینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعی بھائی سے کروائے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   رضاعت 0
  • رضاعی بیٹے کی بہن سے اپنے بیٹے کا نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 1
  • رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • نیت اور قصد کے بغیر دودھ منہ میں جانے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • پانچ مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت کے ثبوت والی حدیث کا جواب

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • بھانجی کو دودھ پلانے کے بعد اپنے کسی بھی بیٹے سے اس کا نکاح کرانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس لڑکے کے بھائیوں نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو اس کی بیٹی سے مذکور لڑکے کا نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس عورت کا دودھ پیا ہو اسکی بیٹی سے شادی کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 1
  • کیا چمچہ وغیرہ کے ذریعے دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعت کے متعلق شک کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • دو عورتوں کی گواہی سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • چودہ سال کی بچی کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • شک کی بناء پر حرمت رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • ایک مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • کیا ممانی کا دودھ پینے کے بعد اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • لے پالک بیٹے کو محرم بنانے کیلئے اپنی بھانجی کا دودھ پلانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • نکاح کے متعلق مسائل- مدتِ رضاعت کے بعد بچے کو دودھ پلانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • لےپالک بچی کو بھتیجی سے دودھ پلواکر محرم بنانے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • دادی کا دودھ پینے کے بعد پھوپھو کی بیٹی سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
Related Topics متعلقه موضوعات