میرا سوال خُلع کے اُس حکم کے بارے میں ہے جو شوہر کی رضامندی کے بغیر اور شوہر کو اطلاع دیئے بغیر لیا جائے۔ میری شادی 2018 میں ہوئی۔ 2019 میں ایک جھگڑا ہوا اور میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی، لیکن فوراً ہی ہم نے رجوع کر لیا۔
2022 میں میری مالی حالت کمزور ہو گئی۔ فروری 2023 میں میری بیوی نے طلاق کا مطالبہ شروع کر دیا۔ مارچ 2023 میں اُس نے مجھے دھمکانا شروع کیا کہ اگر میں طلاق نہ دوں تو وہ خُلع لے لے گی اور خُلع کی صورت میں میرا بیٹے کی حضانت کا حق ختم ہو جائے گا (اُس وقت مجھے قانون کا علم نہیں تھا، اس لیے میں ڈر گیا)۔ اُس نے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ میرے خلاف پولیس کیس کر دے گی۔ خوف کی وجہ سے میں نے کہا کہ میں دوسری طلاق دے دیتا ہوں، جس سے ہمیں تین ماہ صلح کی مہلت مل جائے گی۔ وہ اس پر راضی ہو گئی، چنانچہ میں نے اُس سے کہا کہ میں تمہیں دوسری طلاق دیتا ہوں جیسا کہ تم چاہتی ہو۔
وہ گھر چھوڑ کر اپنی والدہ کے پاس چلی گئی۔ چند گھنٹوں بعد وہ واپس آئی اور گھر آنے کی درخواست کی۔ میں نے اُس سے کہا: "میں نے تمہیں لوٹا لیا ہے"، پھر ہم نے بوسہ لیا، گلے ملے اور ساتھ سوئے۔ اگلی صبح جب میں دفتر جا رہا تھا تو اُس نے پھر کہا کہ وہ اپنی والدہ کے گھر جا رہی ہے اور سوچ کر واپس آئے گی۔
اپنی والدہ کے گھر جا کر اُس نے دوبارہ آخری طلاق کا مطالبہ شروع کر دیا۔ میں نے اپنے والدین کو بھی مداخلت کے لیے کہا اور اُس کے بھائی سے بھی رابطہ کیا، لیکن میری بیوی اور اُس کی والدہ نے کبھی دروازہ نہیں کھولا۔ چھ ماہ تک میں اُس کے بھائی کے ساتھ رابطے میں رہا اور وہ کہتا تھا کہ وہ واپس آجائے گی۔
اچانک اکتوبر 2023 میں اُس کے بھائی نے بات کرنا بند کر دی۔ پھر مجھے مارچ 2024 میں پتا چلا کہ میری بیوی نے اکتوبر 2023 میں مجھے اطلاع دیے بغیر اور میری رضامندی کے بغیر خُلع لے لیا تھا۔ میں نے خُلع کو عدالت میں چیلنج کیا اور جولائی 2024 میں اُسی عدالت میں بیٹے کی حضانت کا کیس بھی دائر کیا۔
اپریل 2025 میں میری بیوی نے اچانک کہا کہ وہ گھر واپس آنا چاہتی ہے۔ ہم دونوں جج کے سامنے گئے، تمام کیسز واپس لے لیے، اور وہ میرے ساتھ گھر واپس آگئی۔
میرا سوال: چونکہ خُلع میری رضامندی اور میرے علم کے بغیر لیا گیا تھا، تو کیا وہ شرعاً اب بھی میری نکاح میں ہے؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کی درستگی کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہٰذا اگر سائل (شوہر) یا اس کے وکیل نے واقعۃً خلع کے کاغذات پر نہ دستخط کیے ہوں ، اور نہ ہی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو تو ایسی صورت میں عدالت کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعا میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا ، تاہم اگر سائل نے واقعۃً پہلے مختلف مواقع پر بیوی کے مطالبہ طلاق پر فقط دو مرتبہ اپنی بیوی کو واضح اور صریح الفاظ میں طلاق دینے کے بعد دوران عدت بیوی سے منہ زبانی رجوع کر کے جیسے "میں رجوع کرتا ہوں" کہہ کر یا عملاً اسے شہوت سے چھو کر یا میاں بیوی والا تعلق قائم کر کے رجوع کر لیا ،تو شرعا بھی یہ رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا، اور اب دونوں کے لئے تجدید نکاح کئے بغیر ساتھ رہنا بھی جائز ہوگا،لیکن آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا،اس لیے آئندہ کے لیے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیے۔
کما فی احکام القرآن للجصاصؒ: قال اصحابنا انھما لایجوز خلعھما الا برضی الزوجین لان الحاکم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان ( الی قولہ ) وکیف یجوز للحکمین ان یخلعا بغیر رضاہ و یخرجا المال عن ملکھا الخ۔ (ج:2، ص:191، باب الحکمین کیف یعملان، ط:اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی فتاوی التاترخانیۃ : فی المخلص والایضاح: الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ۔ (ج:5، ص:5، کتاب الطلاق، الفصل السادس عشر فی الخلع، ط:زکریا)۔
وفی الفتاوی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض کذافی الھدایہ الخ۔ (كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج:1، ص:470، ط:رشيدية)۔
و فی بدائع الصنائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت الخ۔ (کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق، ج:3،ص:120،ط: دار الكتب العلمية)۔