بخدمت جناب مفتی صاحب! میرا ریتی کا کام ہے، میں ایک بلاک کے فیکٹری میں مال سپلائی کرتا ہوں، اور مجھے کچھ رقم کی اشد ضرورت ہے، اس کے علاوہ کہیں اور سے امید نہیں ہے، لہٰذا میں نے مالکانِ فیکٹری سے مطالبہ کیا، ان کا کہنا ہے کہ جتنی رقم کی ضرورت ہے، وہ ہم آپ کو بطورِ ایڈوانس دے دیں گے، وہ رقم آپ کے پاس ہماری امانت ہوگی اور آپ مجھے موجودہ ریٹ میں تھوڑا سا مزید ڈسکاؤنٹ کریں گے اور رقم کا مطالبہ کام ختم کرنے کی صورت میں کریں گے اور باقی جو گاڑی مال سپلائی کرے گی، اس کی پیمنٹ بل ٹوٹل ہوگی، لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ یا ہمیں اس کا کوئی اور حل بتا دیں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔ شکریہ!
مذکور طریقہ سے امانت کے نام سے قرض دے کر اس کے عوض ریٹ میں مزید ڈسکاؤنٹ کرانا جائز نہیں، تاہم اگر وہ اسے مذکور رقم دیدیں اور سائل بغیر طے کیے محض احسان کے بدلہ کے طور پر اس کے ساتھ ریٹ میں اپنی طرف سے کچھ رعایت کر دے تو اس کی گنجائش ہے۔
کمافي الأشباه والنظائر لابن نجيم: كل قرض جر نفعا حرام اھ (ص: 226)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وهذا هو الأصل؛ ولهذا قلنا: إن المنفعة إذا كانت مشروطة في الإقراض فهو قرض جر منفعة وإن لم تكن مشروطة فلا بأس به اھ (14/ 35)۔
وفي الفتاوى الهندية: إذا أقرض رجلا دراهم أو دنانير ليشتري المستقرض من المقرض متاعا بثمن غال فهو مكروه وإن لم يكن شراء المتاع مشروطا في القرض ولكن المستقرض اشترى من المقرض بعد القرض بثمن غال فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (3/ 203)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: القرض الذي جرّ منفعة: قال الحنفية في الراجح عندهم: كل قرض جر نفعاً حرام إذا كان مشروطاً، فإن لم يكن النفع مشروطاً أو متعارفاً عليه في القرض، فلا بأس به اھ (5/ 3793)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1