میرا نام محمد کاشف ہے، اور راولپنڈی کا رہنے والا ہے , میری شادی کو 4 سال ہو چکے ہیں , پچھلے مہینے میں خاندانی مسائل تھے , ایک دن میں اکیلا تھا، اور غصے میں تھا, میں طلاق کے بارے میں کچھ سوچ رہا تھا، لیکن مجھے پوری طرح یاد نہیں ؟ کچھ دنوں بعد مجھے وہ واقعہ یاد آیا ,اب تک میں سوچ رہا ہوں، اور یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس دن کیا ہوا تھا میں اکیلا تھا , کبھی مجھے یاد آتا ہے، میں صرف سوچ رہا تھا، اور کچھ نہیں ,کبھی مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے کچھ غلط کہا تھا، لیکن مجھے صحیح الفاظ یاد نہیں ہیں، یہاں تک کہ مجھے نہیں معلوم کہ طلاق کا لفظ بولا یا اس وقت کچھ بھی بولا , لیکن میں نے یاد کرنے میں کئی دن گزارے شاید میں نے کچھ کہا یا ایک لفظ بھی نہ کہا آخر میں، میں اس سوچ کو نظر انداز نہیں کر سکتا، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ میں نے کچھ کیا ہو، لیکن صحیح جملہ %100 کے ساتھ یاد نہیں ہے، بنیادی طور پر میں شک میں ہوں، مجھے یاد ہے کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ میری بیوی کچھ دن اپنے والدین کے گھر رہے، جب تک مسائل حل نہ ہو جائیں , براہِ کرم مجھے بتائیں کہ میرے نکاح کی کیا حیثیت ہے ؟ اگر کچھ غلط نہیں ہے تو میں اس سوچ کو کیسے نظر انداز کر سکتا ہوں ؟
سائل کو اگر اپنے الفاظ یقینی طور پر یاد نہ ہوں، محض شک ہو کسی ایک جانب غالب گمان نہ ہو تو ایسی صورت میں محض شک کی بناء پر سائل کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، لہذا سائل اور اس کی بیوی حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ تاہم آئندہ اس طرح کے الفاظ سے بھی اجتناب لازم ہے، جن سے بے جا شکوک و شبہات پیدا ہو کر گھر کا سکون خراب ہو۔
ففی الفتاوى الهندية: لا يقع عليها وعلى هذا إذا سمى بغير اسمها ولا نية له في طلاق امرأته فإن نوى طلاق امرأته اھ (1/ 358)۔
و في مراقي الفلاح: لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف اھ (ص: 125)۔
و في البحر الرائق: و في المحيط الأصل أنه متى وجدت النسبة وغير اسمها بغيره لا يقع اھ (3/ 273) -