کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ عظام شرعِ متین مندرجہ ذیل مسائل میں:
1 - جائز کمپنیوں کے شیئرز نقد خرید کر ادھار (Feature) پر فروخت کیے جا سکتے ہیں؟ جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ شیئرز ہمارے پاس موجود رہتے ہیں اور ماہ کے آخری جمعہ کو رقم لے کر ڈلیوری دے دی جاتی ہے، کیا یہ طریقہ درست ہے؟
-۲- بعض دفعہ ایسے ہوتا ہے کہ خریدار پر اپنے پاس موجود شیئرز ادھار فروخت کر دیتے ہیں مگر ادائیگی کی مدت آنے سے قبل اسے کسی دوسرے پر فروخت کرنے میں ہمیں فائدہ نظر آتا ہے تو وہ شیئرزہم کسی دوسرے پر فروخت کر دیتے ہیں اور وہ کسی تیسرے شخص سے اسی قسم کا معاملہ کر لیتے ہیں اور مدت وہی رکھ لیتے ہیں جو پہلے خریدار سے طے ہوتی ہے چنانچہ مدت آنے پر ہم اس دوسرے شخص سے وصول کے اُسے دے دیتے ہیں یا حوالہ کرا دیتے ہیں، اور پہلا خریدار بھی اس صورت پر رضامند ہوتا ہے، کیونکہ شیئرز میں باہمی کوئی فرق نہیں ہوتا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر عقدِ بیع کے بعد شیئرز کا رسک یعنی اس حصے کے فوائد اور نقصانات اور اس حصے کی ذمہ داریاں بھی مشتری کی طرف منتقل کر دی جاتی ہوں تو مذکور معاملہ شرعاً جائز اور درست ہے ورنہ اس سے احتراز لازم ہے ۔
۲۔ صورتِ مسئولہ میں مذکور طریقہ پر خرید و فروخت کرنے میں کئی ایک وجوہِ فساد پائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مذکور طریقہ کے موافق شیئر ز یا کسی دوسری چیز کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ ایسی صورت میں ابتداءً وعدۂ بیع اور چیز آنے پر اسے دکھا کر بیع کی تکمیل کرلی جائے تو یہ جائز ہے ۔
وفي الفتاوى الهندية: الفصل الأول في حبس المبيع بالثمن قال أصحابنا رحمهم الله تعالى للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا كذا في المحيط وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط اھ (3/ 15) ۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: قال الحنفية: لا يجوز التصرف في المبيع المنقول قبل القبض بلا خلاف، لأنالنبي صلّى الله عليه وسلم نهى عن بيع ما لم يقبض والنهي يوجب فساد المنهي عنه ولأنه بيع فيه غرر لتعرضه إلى الانفساخ بهلاك المعقود عليه، فيبطل البيع الأول، وينفسخ الثاني، وقد نهى الرسول صلّى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر. (5/ 3381)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1