کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داماد مسمیٰ محمد ۔۔۔نے اپنی بیوی، یعنی میری بیٹی کو یہ الفاظ بذریعہ واٹس ایپ میسیج کیے ہیں ” میں نے آپ کو طلاق دے دی ہے، اب مجھے کال نہ کرنا، اور گھر بھی بتادینا “ اس کے بعد لکھا ” اب جھوٹ نہیں بولنا، میں نے آپ کو طلاق دے دی ہے“ پھر لکھا کہ ” سامان جب دل کرے لے جانا، میں نے آپ کو طلاق دی ہے شاید“ اب کچھ نہیں ہوسکتا، سب بھول جائیں، میں نے آپ کو طلاق دی ہے ، مانو یا نہ مانو “ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورتِ حال میں کتنی طلاقیں واقع ہو گئی ہیں؟
نوٹ: سائل کے داماد مسمیٰ محمد ۔۔۔ کو دارالافتاء بلواکر تفصیل معلوم کی، تو انہوں نے بتایا کہ اصل واقعہ یہ ہوا کہ میں ڈیوٹی پر تھا، اور اس سے دو تین دن قبل میری اپنی بیوی سے کچھ لڑائی ہوگئی تھی، اس وجہ سے ناراضگی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں والدین کے گھر جانا چاہتی ہوں، تو میں نے انہیں اجازت دیدی اور وہ والدین کے ہاں چلی گئی۔ اس کے اگلے دن میں نے ان کو کئی مرتبہ فون کیا تو وہ فون رسیو نہیں کر رہی تھی، اس کے بعد جب فون رسیو کیا تو بات چیت کرنے کے بجائے مختصر بات چیت کرنے کے بعد یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ مجھے نیند آرہی ہے، میں سورہی ہوں۔ اس پر مجھے غصہ آیا ، اس کے کچھ دیر بعد میں نے بطورِ دھمکی اور ڈرانے کےلئے انہیں میسیج کردیا کہ” میں نے تجھے طلاق دیدی ہے، اب مجھے کال نہیں کرنا، گھر میں نے بتادیا ہے“۔ اور اس کی وجہ یہ تھی تاکہ وہ مجھ سے بات کرے، لیکن انہوں نے اس کے باوجود مجھے جواب نہیں دیا۔ اس کے کچھ دیر بعد دوبارہ یہ میسیج کیا خدا حافظ، لیکن میں نے اس سے قبل کوئی طلاق نہیں دی تھی۔اسی وجہ سے ایک میسیج میں، میں نے اس بات کی بھی صراحت کی کہ ” اب جھوٹ نہیں بولنا میں نے آپ کو طلاق دے دی ہے، جو ہونا تھا ہوگیا ہے“ سونا آپ لے گئی ہو سامان جب دل کرے لے جانا“۔ لیکن مسلسل انتظار کے باوجودبیوی کی طرف سے جواب نہیں آیا تھا۔ تو اس کے بعد میں نے میسیج کیا ، تو میں نے لکھا ” میں نے آپ کو طلاق دی ہے شاید “ اب کچھ نہیں ہو سکتا سب بھول جاؤ“ ۔ اور بعد میں شام کو جب ان سے بات ہوئی، تو انہوں نے کہا کہ مجھے اپنا اے ٹی ایم اور تنخواہ دو گے تو آپ سے بات کروں گی اور فون بند کردیا۔ جس پر مجھے مزید غصہ آیا اور یہ جملہ لکھ دیا کہ ” میں نے آپ کو طلاق دی ہے آپ مانو یا نہیں مانو ، میں نے کب کہا ہے آپ سنو،سونا آپ کو دے دیا ہے، سامان لے جانا “ ۔ اور ایک میسیج میں یہ بھی لکھا کہ” تمہارے لئے یہ سب مذاق ہے، مگر میں مذاق نہیں کر رہا، اگر مذاق بھی ہے تو طلاق ہو گئی ہے “۔ آخری دو جملے اسی وجہ سے لکھے تھے کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدہ نہیں لے رہی تھی۔ اس پورے واقعہ کے بعد جب فون پر بات چیت ہوئی تو میں نے ان سے کہا آپ نے مجھے روکا کیوں نہیں، تو انہوں نے بتایا کہ میں اسے دھمکی سمجھ رہی تھی۔ اس پر میں نے جب پوچھا کہ پھر آپ کو کس نے بتایا کہ طلاق ہوگئی ، تو انہوں نے بولا کہ گھر والوں نے سارے میسیج پڑھے ہیں اور انہوں نے کہا طلاق ہوگئی۔ اور اب مفتی صاحب بتائیں گے کہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟
صورتِ مسؤلہ میں سائل کے داماد نے جب اپنی بیوی کو ڈرانے اور دھمکانے کےلئے مذکور صریح اور واضح الفاظ” میں نے آپ کو طلاق دے دی ہے “ کے ذریعے وقفے وقفے سے تین بار میسیج کردئیے، تو اس سےاس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: الکتابۃ علی نوعین مرسومۃ و غیرمرسومۃ و نعنی بالمرسومۃ أن یکون مصدرا أو معنونا مثل ما یکتب إلی الغائب و غیر المرسومۃ أن لا یکون مصدرا أو معنونا و ھو علی وجھین مستبینۃ و غیر مستبینۃ ( إلی قولہ ) و إن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی أو لم ینو إلخ۔ ( الفصل فی الطلاق بالکتابۃ، ج 1،ص 378، ط: ماجدیۃ )۔
و فی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین: صریح و کنایۃ، فالصریح: قولہ أنت طالق، و مطلقۃ و طلقتک، فھذا یقع بہ الطلاق ( إلی قولہ ) و لا یفتقر إلی النیۃ ( إلی قولہ ) و إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ، أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، و یدخل بھا، ثم یطلقھا أو یموت عنھا: و الأصل فیہ قولہ تعالیٰ: ( فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ) و المراد الطلقۃ الثالثۃ، و الثنتان فی حق الأمۃ کالثلاث فی حق الحرۃ ( إلی قولہ ) و ھو قولہ علیہ الصلاۃ و السلام: ( لا تحل للأول حتی تذوق عسیلۃ الآخر ) إلخ۔ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 2، ص 61۔92، ط: انعامیۃ )۔
و فی الدر المختار: ( صریحہ ما لم یستعمل إلا فیہ ) و لو بالفارسیۃ ( کطلقتک و أنت طالق و مطلقۃ ) ( إلی قولہ ) ( و یقع بھا ) أی بھذہ الألفاظ و ما بمعناہ من الصریح ( إلی قولہ ) ( و ینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ و بعدھا بالإجماع ) ( إلی قولہ ) ( لا ) ینکح ( مطلقۃ ) من نکاح صحیح نافذ کما سنحققہ ( بھا ) أی بالثلاث ( و لو حرۃ و ثنتین لو أمۃ ) و لو قبل الدخول ( إلی قولہ ) ( حتی یطأھا غیرہ و لو ) الغیر ( مراھقا ) یجامع مثلہ ( إلی قولہ ) ( بنکاح ) نافذ خرج الفاسد و الموقوف ( إلی قولہ ) ( و تمضی عدتہ ) أی الثانی ( لا بملک یمین ) لاشتراط الزوج بالنص ( إلی قولہ ) ( و الإیلاج فی محل البکارۃ یحلھا و الموت عنھا لا ) ثم ھذا کلہ فرع صحۃ النکاح الأول إلخ۔ ( باب الصریح، ج 3، ص 216۔247، ط: سعید )۔