کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں مجھے مکان کا آدھا حصہ ہبہ کر دیا، اور اس کے کاغذات لکھوا کر میرے حوالے کر دیے ، لیکن مکان کو الگ نہیں کیا ،اور موت تک میرے ساتھ اس مکان میں رہے، جبکہ اس وقت میرے دوسرے بھائی الگ الگ مکانوں میں تھے یعنی ہم سے علیحدہ تھے۔ اب والد صاحب کی وفات کے بعد وہ اُس میں حصے کا مطالبہ کر رہے رہے ہیں، اور اس تحریر کو نہیں مانتے، جو اس سوال کے ساتھ منسلک ہے ؟ تو کیا اس میں بھائیوں کا حصہ ہے؟
نوٹ: تقسیم کے بعد بھی دونوں حصے قابل انتفاع رہینگے۔
مذکورہ صورت میں والدِ مرحوم نے اگر چہ قانونی اعتبار سے اپنے مملوکہ نصف مکان کا مالک و قابض سائل کو بنا دیا تھا،مگر اس طرح کا قبضہ شرعاً معتبر نہیں ، بلکہ صحتِ قبضہ کے لئے واہب کا شئی موہوبہ سے اپنے تمام حقوق اور قبضہ ختم کر کے موهوب لہ کو حوالے کرنا شرط ہے،اور یہ طریقہ مذکور صورت میں مفقود ہے، اس لئے یہ ہبہ شرعاً درست بھی نہیں ہوا،البتہ اگر ورثاء اپنے والد کی تحریر کا لحاظ کرتے ہوئے مذکو ر حصہ اپنے اس بھائی کو دیدیں، اور فقط باقی حصے کو اصول ِمیراث کے مطابق تقسیم کریں ،تو اس کا انہیں اختیار ہے، ان پر لازم نہیں، اور نہ ہی سائل انہیں اس ہبہ کی تنفیذ پر مجبور کر سکتا ہے ،تاہم سب کو چاہئیے کہ اب تقسیمِ میراث کرکے باہمی نزاع اور جھگڑنے کو ختم کریں۔
ففی الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا اھ (4/ 374)۔
و في الفتاوى الهندية: ويشترط أن يكون الموهوب مقسوما ومفرزا وقت القبض اھ (4/ 376) ۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0