کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص جو نشہ کا عادی ہے اور اپنی بیوی کو مختلف الفاظ اور گالیاں دیتا ہے، مارتا پیٹتا بھی ہے۔ اب اس نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ درج ذیل الفاظ نشہ کی حالت میں شدید غصے میں کہہ دیے ہیں ” میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ، پھر تمہیں طلاق دیتاہوں “ شرعاً ان الفاظ کا کیا حکم ہے ؟ اور اب آئندہ کے لیے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ نشہ کے حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورشخص نے مذکور الفاظ "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں پھر تمہیں طلاق دیتا ہوں" تین دفعہ دہراکر جب اپنی مدخول بہا بیوی کو کہہ دیئے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے۔ جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : فإن طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ( البقرۃ : 230 )-
و فی الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:1 ، ص: 473، ناشر: ماجدیۃ )-
و فی البحر : ( قولہ و ثلاثاً فی طھر واحد أو بکلمۃ بدعی ) أی تطلیقھا ثلاثاً متفرقۃ فی طھر واحد أو ثلاثاً بکلمۃ واحدۃ بدعی أی منسوب إلی البدعۃ و المراد بھا ھنا المحرمۃ لأنھم صرحوا بعصیانہ إلخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 239، ط ماجدیۃ )-