کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ اگر کوئی شخص جرم ( قتل ، زنا) کر لیتا ہے، پھر صلح کے لئے جرگہ بیٹھتا ہے، اور اس میں یہ طے ہوتا ہے کہ قاتل یازانی کے گھر سے لڑکی مقتول کے گھر دی جاتی ہے، اس کے بغیر صلح کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں، اور لڑکی اس پر راضی بھی نہیں ہوتی، البتہ گھر والوں کی خاطر مجبوراً راضی ہو جاتی ہے تاکہ مزید دشمنی پیدا نہ ہو تو کیا یہ نکاح درست ہے؟ اس صلح میں جو شریک ہوں گے وہ گناہ گار ہوں گے یا نہیں ؟ان کے لئے کوئی وعید ؟ اس طرح کے نکاح میں شریک ہونا جائز ہے ؟ اس طرح کے نکاح کور رخصتی سے قبل فسخ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس سے قبل جو نکاح ہو چکے ہیں ، ان کا کیا حکم ہے؟
نوٹ : مذکور لڑ کی مقتول کے گھر میں ہمیشہ کے لئے لعن طعن کا شکار رہتی ہے، یہ طریقہ عام ہو رہا ہے، مہربانی فرما کر قرآن حدیث و فقہ کی روشنی میں مدلّل جواب عنایت فرما کر اس مظلوم کی داد رسی اور ثوابِ دارین حاصل کریں۔
سوال میں مذکور کردہ تفصیل کے مطابق صلح کرنے کا جو رواج بعض علاقوں میں رائج ہے، جسے اصطلاح میں ’’سورہ‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، یہ محض ایک قبیح رسم ہے جو جہالت پر مبنی ہے اور یہ متعدد شرعی مفاسد پر مشتمل ہے۔ مثلاً : (۱) آزاد عورت شرعاً مال نہیں، جبکہ شریعت نے بدل صلح یا دیت میں مال کی ادائیگی کو ضروری قرار دیا ہے،لہٰذا صلح کے طور پر لڑکی دینا بالکل ناجائز اور حرام ہے۔
(۲) مذکور رسم میں صلح کے طور پر جو نکاح کیا جاتا ہے، اگر یہ عاقلہ بالغہ لڑکی ہو اور اس کی رضامندی کے بغیر یہ نکاح کیا گیا ہو اور اس نے نکاح کے بعد بھی اس پر رضامندی ظاہر نہ کی ہو (جیسا کہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے) تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔ اور یہ مرد اور عورت جب تک ساتھ رہیں گے اور میاں بیوی والے تعلقات قائم کریں گے، حرام کاری میں مبتلا رہیں گے، اور صلح کرانے اور کرنے والے اس قبیح گناہ میں شریک ہوں گے، اور اگر نابالغہ لڑکی ہو اور ولی نے اس کی مصلحت کو مدنظر رکھے بغیر محض دشمن سے جان چھڑانے اور اپنے مفاد کی خاطر بچی کی زندگی داؤ پر لگا کر یہ نکاح کرایا ہو ( جیسا کہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے) تو یہ نکاح غیر کفؤ میں مہر مثل سے کم پر ہونے کی صورت میں شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا، اگرچہ باپ دادا نے یہ نکاح کیا ہو۔
(۳) نیز لڑکی کا دشمن کے گھر جانے کی وجہ سے اسے ظلم وستم وغیرہ دیگر بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس صورت میں عموماً عورت مہر سے محروم ہوتی ہے،حالانکہ مہر عورت کا ایک حق ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا مفاسد کی وجہ سے صلح کے طور پر لڑکی دینا ظلم پر مبنی ایک رسم ہے۔ جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔ اس لئے اس سے بہرحال اجتناب لازم اور ضروری ہے، جبکہ مذکور صلح میں ہونے والے نکاح کے متعلق اجمالاً مفسدہ نمبر ۲ کے تحت تفصیل ذکر کی جاچکی ہے، لیکن کسی خاص واقعہ میں ہونے والے نکاح کا حکم اس واقعہ کی مکمل صورت حال پر غور و فکر کے بعد ہی بتایا جاسکتا ہے، تاہم جس صلح میں مندرجہ بالا مفاسد نہ ہوں، بلکہ لڑکی نکاح میں دینے سے جھگڑا اور فساد ختم ہو جاتا ہو، اور لڑکی بھی عاقلہ بالغہ ہو ، اور وہ بھی اس نکاح پر راضی ہو ، جیسا کہ بہت سے واقعات ایسے ہیں جس میں لڑکی نکاح میں دینے سے ان کی دشمنی ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی، تو ایسی صورت میں اس طرح کا صلح کرنا غلط اور نا جائز بھی نہ ہو گا، بلکہ مستحسن عمل ہو گا، کہ اس کی وجہ سے فساد کی جڑ کٹ جاتی ہے ، لہذا علی الاطلاق اس طرح کے صلح کو غلط و ظلم کہنا بھی درست نہ ہو گا۔
كما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما الشرائط التي ترجع إلى المصالح عليه.فأنواع: (منها) أن يكون مالا فلا يصح الصلح على الخمر والميتة والدم وصيد الإحرام والحرم وكل ما ليس بمال؛ لأن في الصلح معنى المعاوضة فما لا يصلح عوضا في البياعات لا يصلح بدل الصلح، وكذا إذا صالح على عبد، فإذا هو حر؛ لا يصح الصلح؛ لأنه تبين أن الصلح لم يصادف محله اھ(6/ 42)۔
وفي الفتاوى الخيرية: سئل في قوم قتل بينهم فصالح اوليائهم المتهمين بهما على قدر من المال واتفقوا على اخذ بنتين به فعقد علی احداهما ولم يعقد على الأخرى هل يجبرون على النكاح الثانية بالمبلغ المتفق عليه ام لا، ولهم المطالبة بالمبلغ من المال الذي وقع الصلح عليه؟ (اجاب) لا يجبرون على والصلح عن الجناية بالمال جائز بالاجماع ولا يجوز بالحرة ولا بماليس بمال بالاجماع اھ (2 / 104)۔
وفي الدر المختار: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة (أو وكيله أو رسوله أو زوجها) وليها وأخبرها رسوله أو الفضولي عدل (فسكتت) عن رده مختارة اھ (3/ 58)۔
وفي حاشية ابن عابدين: بحر (قوله وهو السنة) بأن يقول لها قبل النكاح فلان يخطبك أو يذكرك فسكتت، وإن زوجها بغير استئمار فقد أخطأ السنة وتوقف على رضاها بحر عن المحيط اھ(3/ 58)۔
وفي البحر الرائق: فظاهر كلامهم أن الأب إذا كان معروفا بسوء الاختيار لم يصح عقده بأقل من مهر المثل ولا بأكثر في الصغير بغبن فاحش ولا من غير الكفء فيهما سواء كان عدم الكفاءة بسبب الفسق أو لا اھ (3/ 145)۔
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1