السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
مفتیان کرام! آپ سے طلاق سے متعلق مسئلہ پوچھنا ہےکہ ایک شخص کی دو بیویاں ہیں ، دوسری بیوی شوہر سے فون پر بول رہی تھی کہ اسکی کال یا میسج کا پہلی بیوی کے گھر میں جواب کیوں نہیں دیا ،جبکہ دوسری کے گھر تو پہلی کے میسجز کے جواب دیتے ہیں اور یہ کہ پہلی کیوں یہاں کال کرتی ہے جب دوسری کے گھر ہوں، جبکہ دوسری وہاں کال کرے تو اس پر غصہ ہوتے ہیں کہ وہاں کیوں کال کرتی ہو،شوہر بھی بحث کر رہا تھا اور غصے میں باتوں کے دوران دھمکی دے رہا تھا کہ میں تمہیں فارغ کر دونگا،پھر دوسری نے بولا کہ پچھلے جمعہ جب آپ یہاں گھر پر تھے تو پہلی نے 11:30 بجے کیوں کال کی تھی جبکہ چھٹی تھی، جس پر شوہر نے دوسری بیوی کو یہ الفاظ بولے کہ” تم فارغ ہو اپنے باپ بھائیوں کے گھر جانے کیلئے “جس کے بعد دونوں خاموش ہوگئے اور کام کی بات کی، کیونکہ بیوی کو اس دن کچھ ٹیسٹ کرانے کیلئے جانا تھا،یہ سب باتیں فون پر ہوئی تھیں ،بعد میں جب شوہر دوسری کے گھر تھا تو اس نے شوہر سے پوچھا کہ آپ نے” فارغ ہو اپنےباپ بھائیوں کے گھر جانے کیلئے“ کس نیت سے بولا تھا جس پر شوہر نے بولا کہ مجھے معلوم ہے میں نے کیا بولا ہے، ان الفاظ سے میری طلاق کی نیت نہیں تھی تو کیا کوئی طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ برائے مہربانی وضاحت کر دیں۔
دوسرے دن صبح پھر میاں بیوی کی تکرار ہوئی کہ پہلی بیوی کو دوسری کی باتیں کیوں بتاتے ہیں، تو شوہر نے دوسری بیوی کو بولا کہ ”اگر تم سے برداشت نہیں ہو رہا تو مت کرو برداشت، چلی جاؤ، فارغ ہو،فارغ ہو تم دفع ہو جاؤ“ اور سو گیا،جب شوہر اٹھا اور جانے لگا تو بیوی نے اس بارے میں پوچھا کہ” فارغ ہو“ آپ نے کس نیت سے بولا تھا، تب بھی شوہر نے یہی کہا کہ طلاق دینےکی نیت نہیں تھی،طلاق دونگا تو واضح الفاظ میں دونگا۔
براہِ مہربانی وضاحت فرمادیں کہ کیا ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع ہوگی؟ جبکہ شوہر یہ کہے کہ اس کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی صرف دھمکی دینا یاڈرانا تھا؟ مزید یہ پوچھنا ہے کہ اگر بیوی حیض کی حالت میں ہو تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے ؟
براہِ مہربانی تفصیلی وضاحت فرما دیں ۔
واضح ہو کہ حالتِ حیض میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،جبکہ " فارغ ہو" کا جملہ عند القرینہ چونکہ صریحِ بائن کے حکم میں شمار ہوتا ہے ، لہذااگر شوہرنے اپنی دوسری بیوی کو فون کال پر غصہ اور مذکور بحث و تکرار کے دوران مذکور الفاظ "تم فارغ ہواپنے باپ بھائیوں کے گھر جانے کیلئے" کہے ہوں، تواگر چہ شوہر نے یہ الفاظ بلا نیتِ طلاق محض اپنی بیوی کو ڈرانےاور دھمکانے کیلئے کہے ہوں تب بھی اس سے اس کی دوسری بیوی پرحالتِ حیض میں ہونے کے باوجود ایک طلاق ِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے،جبکہ اگلی صبح پھر بحث و تکرار کے دوران شوہر کی جانب سے کہے گئےمذکور الفاظِ بائن ” چلی جاؤ، فارغ ہو إلخ“بائن ہونے کی وجہ سے اس کا کا بائن سے عدمِ لحوق کی بناء پر ان جملوں سے مزید کوئی واقع نہیں ہوئی، اب رجوع نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، تاہم اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہتے ہوں، تو نئےحقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا،البتہ آئندہ کیلئےشوہر کو فقط دوطلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی الھندیۃ: وفی الھندیۃ: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (إلی قولہ) وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام إلخ(کتاب الطلاق، الباب الخامس فی الکنایات فی الطلاق، ج: 1، ص: 374۔375، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: (والبدعي) من حيث الوقت أن يطلق المدخول بها وهي من ذوات الأقراء في حالة الحيض أو في طهر جامعها فيه وكان الطلاق واقعا ويستحب له أن يراجعها والأصح أن الرجعة واجبة هكذا في الكافي إلخ(کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، ج: 1، ص: 349، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار: (الصریح یلحق الصریح و) یلحق (البائن) بشرط العدۃ (والبائن یلحق الصریح) الصریح مالا یحتاج إلی نیۃ بائنا کان الواقع بہ أو رجعیا فتح، (إلی قولہ) (لا) یلحق البائن (البائن) إلخ( کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج: 3، ص: 306۔308، ط: سعید )۔
وفی الرد تحت: (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال، وحينئذ فيكون المراد بالصريح في الجملة الثانية أعني قولهم فالبائن يلحق الصريح لا البائن هو الصريح الرجعي فقط دون الصريح البائن،
و فی الھدایۃ: و إذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ، و بعد إنقضائھا لأن حل المحلیۃ باقٍ لأن زوالہ معلق بالطلقۃ الثالثۃ،فینعدم قبلہ، و منع الغیر فی العدۃ لاشباہ النسب و لا اشتباہ فی إطلاقہ إلخ(کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:2، ص: 92، ط: مکتبہ انعامیۃ)۔