کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مسائل ذیل میں کہ
(۱) شریعت کے حدود کے اندر رہتے ہوئے سونے کی خرید وفروخت کس طرح کر سکتے ہیں؟ بعض لوگ ملاوٹ کی وجہ سے سونے کی کمائی کو ناجائز اور حرام قرار دیتے ہیں۔
(۲)بجلی کے کنڈے کا استعمال جائز ہے یا نہیں اگر گھر کے اندر لگا ہو تو اس صورت میں نماز کھانے پینے کا کیا حکم ہوگا؟
(۳) کریانہ کی دکان میں کنڈے کی بجلی لگی ہے اور دکان دار کرایہ پر کاروبار کر رہا ہے تو اس کا منافع حلال ہے یا نہیں؟ کنڈا مالک نے خود لگایا ہے اگر کرایہ دار خود لگا دے تو اس کا کیا حکم ہے؟
سونے کی خرید و فروخت شرعاً جائز اور درست ہے اور اس میں تھوڑی بہت ملاوٹ ہوتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر زیور وغیرہ بنانا ناممکن ہوتا ہے، تاہم سونے میں دیگر اشیاء کی زیادہ ملاوٹ کر کے اور بتائے بغیر خریدار سے خالص اور اچھے درجہ کے سونے کی قیمت وصول کرنا د ھو کہ اور فریب ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
(۲،۳)کنڈے کا استعمال اگر متعلقہ کمپنی کی اجازت سے ہو اور اس کی فیس بھی بھری جاتی ہو تو یہ شرعاً بھی جائز ہے اور اگر غیر قانونی کنڈا ہو تو اس کا استعمال اگر چہ جائز نہیں، مگر اس کی وجہ سے کھانا پینا نماز اور ایسی دوکان میں ہونے والاپورا کاروبار حرام نہیں ہو جاتا، البتہ اس کی نحوست سے اس میں کراہت ضرور پیدا ہوتی ہے اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
في الهداية شرح البداية: لأن النقود لا تخلو عن قليل غش عادة لأنها لا تنطبع إلا مع الغش اھ (3/ 85)۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله ومال عامة) وهو مال بيت المال فإنه مال المسلمين وهو منهم، وإذا احتاج ثبت له الحق فيه بقدر حاجته اھ (4/ 94)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1