سوال برائے دارالافتاء:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته،
میری حال ہی میں منگنی ہوئی ہے، اور میری والدہ (جو ابھی جوان اور آزاد خیال ہیں) میرے ہونے والے شوہر یعنی اپنے داماد سے اکثر واٹس ایپ پر خوش اخلاقی سے چَیٹ کرتی ہیں، بظاہر ان کا کوئی غلط ارادہ نہیں ہوتا، لیکن وہ بے تکلف انداز میں بات کرتی ہیں جس سے وقت کے ساتھ تعلق میں قربت بڑھتی جا رہی ہے،مجھے یہ خدشہ ہے کہ:1. منگنی کے دوران اگر یہ تعلق گہرا ہوتا گیا تو شادی کے بعد میرے شوہر کا آنا جانا بھی معمول کا حصہ ہوگا،2. اگر شادی کے بعد میرے شوہر کے دل میں میری والدہ کے لیے شہوت پیدا ہو گئی، یا وہ ان کے ساتھ کسی نامناسب کشش کا شکار ہو گئے، تو:کیا اس سے میرے نکاح پر شرعی اثر پڑے گا؟کیا میرے شوہر پر میری والدہ (یعنی ان کی ساس) حرام ہو جائیں گی؟3. ہمارے خاندان میں عام طور پر داماد ساس کے ہاتھ کو چوم لیتے ہیں، اگر یہ عمل شہوت کے ساتھ ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟4. کیا شرعاً ایک ماں کو اپنے داماد کے ساتھ بے تکلف انداز میں چیٹ یا بات چیت رکھنی چاہیے؟ یا صرف ضرورت اور سلام دعا کی حد تک محدود رہنا بہتر ہے؟میری خواہش ہے کہ میں یہ فتویٰ اپنی والدہ کو دکھا سکوں تاکہ وہ حدود کا خیال رکھیں ،اور کسی آزمائش سے پہلے رک جائیں، مہربانی فرما کر اس مسئلے کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں فرما دیں،جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ میں منگنی (نکاح سے پہلے )محض نکاح کا وعدہ ہے،خود نکاح نہیں ،لہٰذا منگنی کے بعد بھی لڑکا اورلڑکی ایک دوسرے کیلئے بدستور اجنبی(نامحرم ) رہتے ہیں،اس حکم میں ان کے رشتے دار بھی شامل ہوتے ہیں،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی والدہ کا اپنے ہونے والے داماد کے ساتھ بے تکلفی اختیار کرنا، ہنسی مذاق،غیر ضروری گفتگوکرنا قطعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے، تاہم سائلہ کاہونے والا شوہر اگر سائلہ کی والدہ کو بلاحائل شہوت کے ساتھ چھولے تو اس سے یقیناً سائلہ کی والدہ کے اصول (والدہ ،دادی ،نانی،وغیرہ)اورفروع(بیٹی،پوتی،نواسی وغیرہ)اس پر حرام ہوجائیں گے،اورایسی صورت میں اگرسائلہ کا اس سے نکاح ہوچکا ہو تووہ بھی ٹوٹ جائیگا،لہٰذا سائلہ کی والدہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہونے والے داماد کے ساتھ اس طرح کی بے تکلفی اختیار نہ کرے جو بعد میں فتنہ کاسبب بنے،اورایسا کرنے سے سائلہ کی والدہ عنداللہ بھی گنہگار ہورہی ہے،لہٰذا اسے اپنے اس طرزِ عمل سے توبہ اور آئندہ کیلئے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کمافی القران المجید:وھوالّذی خلق من الماء بشراًفجعلہ نسباً وصھراً ۔ (الفرقان :54)
وفي الدرالمختار:أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرةالخ وفي الشامي: تحت (قوله: مصاهرة) كفروع نسائه المدخول بهن، وإن نزلن، وأمهات الزوجات و جداتهن بعقد صحيح، وإن علون، وإن لم يدخل بالزوجات.... وكذا المقبلات أو الملموسات بشهوة لأصوله أو فروعه أو من قبل أو لمس أصولهن أو فروعهن _ج: 3،ص:28،وفیہ ایضاً: (و) حرم المصاهرة (بنت زوجته الموطوءة وأم زوجته) وجداتها مطلقا بمجرد العقد الصحيح (وإن لم توطأ) الزوجةلما تقرر أن وطء الأمهات يحرم البنات ونكاح البنات يحرم الأمهات، ويدخل بنات الربيبة والربيب. وفي الكشاف واللمس ونحوه كالدخول عند أبي حنيفة وأقره المصنف_وفي الشامي:تحت(قوله: وفي الكشاف إلخ) تبع في النقل عنه صاحب البحر، ولا يخفى أن المتون طافحة بأن اللمس ونحوه كالوطء في إيجابه حرمة المصاهرة من غير اختصاص بموضع دون موضع_(فصل في المحرمات ،ج:3،ص:30،31، م: سعيد)
وفی الھندیۃ:وکماتثبت ھذہ الحرمۃ بالوط تثبت باللمس والتقبیل والنظرالی الفرج بشھوۃ کذا فی الذخیرۃ۔(القسم الثاني المحرمات بالصهرية،ج:1، ص: 274، م: ماجدية۔(
وفی البحرالرائق: (قوله وأم امرأته) بيان لما ثبت بالمصاهرة لقوله تعالى {وأمهات نسائكم} [النساء: 23] أطلقه فلا فرق بين كون امرأته مدخولا بها أو لا وهو مجمع عليه عند الأئمة الأربعة وتوضيحه في الكشاف ويدخل في لفظ الأمهات جداتها من قبل أبيها وأمها وإن علون وقيد بالمرأة فانصرف إلى النكاح الصحيح فإن تزوجها فاسدا فلا تحرم أمها بمجرد العقد بل بالوطءأو ما يقوم مقامه من المس بشهوة والنظر بشهوة۔(فصل في المحرمات، ج : 3، ص : 9 3 ،م:رشيدية)