کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ ۔۔۔نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی مسماۃ ۔۔۔ کو یہ الفاظ بولے کہ ” میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، تم میری طرف سے فارغ ہو، تم میری طرف سے فارغ ہو “ ۔ جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ میں نے صرف ایک مرتبہ فارغ کے الفاظ سنے ہیں۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کےلئے بیوی کا الفاظِ طلاق سننا ضروری نہیں ہے، بلکہ عورت کا الفاظِ طلاق سنے بغیر بھی شوہر کے طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو ” میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں الخ “ کہہ دیا، تو اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاقِ بائن واقع ہوچکی اور تیسری طلاق عدمِ لحوق کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے۔ چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔ البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں، تو نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم تجدیدِ نکاح کی صورت میں آئندہ کےلئے شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔ لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین: صریح و کنایۃ، فالصریح قولہ: أنت طالق، و مطلقۃ، و طلقتک، فھذا یقع بھا الطلاق إلخ۔ ( باب الصریح، ج 2، ص 61، ط: انعامیۃ )۔
و فیھا أیضاً: و أما الضرب الثانی: و ھو الکنایات: لا یقع بھا الطلاق إلا بالنیۃ أو بدلالۃ الحال،لأنھا غیر موضوعۃ للطلاق بل تحتملہ و غیرہ، فلا بد من التعیین أو دلالتہ ( إلی قولہ ) و ھذا مثل قولہ: أنت بائن ( إلی قولہ ) و ألحقی بأھلک، و خلیۃ، و بریۃ، و وھبتک لأھلک، و سرحتک، و فارقتک ( إلی قولہ ) و فی حالۃ مذاکرۃ الطلاق، لم یصدق فیما یصلح جوابا و لا یصلح ردا فی القضاء، مثل قولہ خلیۃ و بریۃ، بائن، بتۃ، حرام، اعتدی، أمرک بیدک، اختاری۔ لأن الظاھر أن مرادہ الطلاق عند السؤال الطلاق إلخ۔ ( فصل فی الطلاق قبل الدخول، ج 2، ص 72۔73، ط: انعامیۃ )۔
و فی الدر المختار: ( صریحہ ما لم یستعمل إلا فیہ ) و لو بالفارسیۃ ( کطلقتک و أنت طالق و مطلقۃ ) ( إلی قولہ ) ( و یقع بھا ) أی بھذہ الألفاظ و ما بمعناہ من الصریح ( إلی قولہ ) ( و ینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ و بعدھا بالإجماع ) إلخ۔ ( باب الصریح، ج 3، ص 247، ط: سعید )۔
و فی فیہ أیضاً: ( الصریح یلحق الصریح و ) یلحق ( البائن ) بشرط العدۃ ( و البائن یلحق الصریح ) الصریح ما لا یحتاج إلی نیۃ بائنا کان الواقع بہ أو رجعیا فتح ( إلی قولہ ) ( لا ) یلحق البائن ( البائن ) إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ و یلحق البائن ) و إذا لحق الصریح البائن کان بائنا لأن البینونۃ السابقۃ تمنع الرجعۃ کما فی الخلاصۃ ( إلی قولہ ) ( قولہ لا یلحق البائن البائن ) المراد بالبائن الذی لا یلحق ھو ما کان بلفظ الکنایۃ لأنہ ھو لیس ظاھرا فی إنشاء الطلاق کذا فی الفتح، و قید بقولہ الذی لا یلحق إشارۃ إلی أن البائن الموقع أو لا أعم من کونہ بلفظ الکنایۃ أو بلفظ الصریح المفید للبینونۃ کالطلاق علی المال، و حینئذ فیکون المراد بالصریح فی الجملۃ الثانیۃ أعنی قولھم و البائن یلحق الصریح لا البائن ھو الصریح الرجعی فقط دون البائن إلخ۔ ( باب الکنایات، ج 3، ص 306۔307، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: الطلاق الصریح یلحق الطلاق الصریح بأن قال أنت طالق وقعت طلقۃ ثم قال أنت طالق تقع أخری و یلحق البائن أیضا بأن قال لھا أنت بائن أو خالعھا علی مال ثم قال لھا أنت طالق وقعت عندنا و الطلاق البائن یلحق الطلاق الصریح بأن قال لھا أنت طالق ثم قال لھا أنت بائن تقع طلقۃ أخری و لا یلحق البائن البائن بأن قال لھا أنت بائن ثم قال لھا أنت بائن لا یقع إلا طلقۃ واحدۃ بائنۃ لأنہ یمکن جعلہ خبرا عن الأول و ھو صادق فیہ و لا حاجۃ إلی جعلہ إنشاء لأنہ اقتضاء ضروری إلخ۔ ( الفصل فی الکنایات، ج 1، ص 377، ط: ماجدیۃ )۔