کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے اپنی ایک سال سے کم عمر بچی کو (جو کہ دو مہینوں سے بیمار تھی چین نہیں آتی تھی اسے) آدھی نیند کی گولی کھلائی ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر، جس سے وقتی طور پر کچھ آرام ملا لیکن تین چار دن بعد وہ بچی انتقال کر گئی تو اس صورت میں اس عورت کی بچی کی موت کا ذمہ دار ٹہرا جائے گا، یا اس پر کوئی ضمان یا کفارہ یا گناہ ہوگا؟ اب وہ عورت کیا کرے وہ بہت پریشان ہے۔
نیند کی گولی کھلانے سے کسی کی موت واقع نہیں ہوتی۔ اس لئے مذکور خاتون کو بلاوجہ بچی کی موت کی ذمہ دار قرار دینا درست نہیں، بلکہ بچی کی موت طبعی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس دوا کے چار دن بعد بچی کا انتقال ہوا ہے۔
کمافی الھندیۃ: والمرأۃ اذا ضربت بطن نفسھا (الیٰ قولہ) امراۃ شربت دواء ولم تتعمد بہ اسقاط الولد فلا شیئ علیھا اھ(6/35)۔
مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار
یونیکوڈ تعذیر و جرمانہ 1