یہ مسئلہ یوں پیش آیا کہ آج سے تقریباً ۱۸ ماہ پہلے آمنہ نے اپنے شوہر سے کہا: “مجھے طلاق دو۔” شوہر نے جواب دیا: “میں نہیں دوں گا۔”پھر بات بڑھ گئی، جس پر شوہر نے کہا: “اتنا ہی ہے تو طلاق لے لے اور اپنے گھر جا۔”یہ الفاظ اس نے دو مرتبہ دہرائے۔اس کے بعد صلح ہوگئی اور دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنے لگے۔ پھر دو ہفتے پہلے دوبارہ جھگڑا ہوا، جس پر شوہر نے کہا: “میں دوسری شادی کرلوں گا۔”بیوی نے جواب دیا: “اگر دوسری شادی کرو گے تو مجھے چھوڑ دینا۔”تو شوہر نے کہا: “میں تجھے چھوڑ چکا ہوں۔”لیکن جب شوہر سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگے: “میں نے ایسا نہیں کہا، میں نے تو گھر چھوڑنے کے معنی میں یہ بات کی تھی، طلاق کے ارادے سے نہیں۔”اب مسئلہ یہ ہے کہ شوہر کہہ رہا ہے کہ میں نے طلاق کے الفاظ کبھی ادا نہیں کیے، میں نے صرف یہ کہا تھا کہ عدالت سے جا کر لے لو، میری نیت طلاق کی ہرگز نہیں تھی۔اور بیوی بھی اس بات میں کنفیوژ ہے کہ اسے بھی صحیح الفاظ یاد نہیں، یعنی سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ کیا کہا گیا تھا۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارا رشتۂ ازدواج ابھی باقی ہے یا ختم ہوچکا ہے۔براہِ کرم جواب جلد از جلد دیجیے۔
صورت مسئولہ میں سائلہ اپنے شوہر سے مطالبہ طلاق کے جواب میں اگر شوہر نے مذکور الفاظ "طلاق لے لے اور گھر جا" مستقبل میں طلاق لینے کی مشورہ کی حیثیت سے کہے ہوں، تو ان الفاظ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی اور ان کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا بھی درست تھا،البتہ حالیہ واقع میں جب شوہر نے مذکور جملہ "میں تجھے چھوڑ چکا ہوں" ایک مرتبہ کہا چاہے طلاق کی نیت سے نہ کہا ہو، تب بھی اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے جس کے بعد شوہر کو دوران عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، چنانچہ دوران عدت اگر شوہر قولا جیسے "میں رجوع کرتا ہوں" یا عملا میاں بیوی والا تعلق قائم کر کے رجوع کر لے تو اس سے یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار رہے گا، لیکن اگر شوہر ایام عدت میں رجوع نہ کرے تو عدت گزرنے سے یہ رجعی طلاق، طلاق بائن بنے گی جس سے ان دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہو جائے گا، جس کے بعد اگر وہ دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لیے باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی گواہاں کی موجودگی میں تجدید نکاح لازم ہوگا، بہر صورت آئندہ کے لیے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دے دے گا، تو اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط لازم ہے۔
کما فی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض کذافی الھدایہ الخ۔ (كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، ج:1، ص:470، ط:رشيدية)۔
و فی بدائع الصنائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت الخ۔ (کتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق، ج:3،ص:120،ط: دار الكتب العلمية)۔
وفی الفتاوی الھندیہ: إذا كان الطلاق بائناً دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ۔ (كتاب الطلاق، الباب السادس ج:1، ص: 473، ط: دار الفكر)۔
و فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي الخ۔ (كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:299، ط: ايج ايم سعيد)
و فیه ایضاً : وقد مر ان الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفا الافيه من اي لغة كانت،وهذا في عرف زمانناكذلك فوجب اعتباره صريحا الخ۔ (كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:3،ص:255،ط: سعيد)۔
وفيه أيضا: الصريح يلحق الصريح ويلحق البائن بشرط العدة و البائن يلحق الصريح الصريح ما لايحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا الخ۔ (كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:3،ص:306،ط:سعيد)۔