محترم مفتی صاحب!میرے نکاح کی تقریب مورخہ 15 اکتوبر 2021 کو انجام پائی، اور 20 اکتوبر 2021 کو میری شادی۔۔۔کے ساتھ ہوئی، جس کے بعد میں رخصت ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگی،تاہم کچھ عرصہ بعد گھریلو ناچاقیوں، جھگڑوں اور اختلافات کے باعث جنوری 2022 میں میں اپنے والدین کے گھر واپس آگئی،میرے شوہر مجھ سے کسی قسم کا تعلق رکھنے سے انکاری تھے ،جبکہ میرے سسرال والوں کی بھی ہمارے تعلقات میں مداخلت اس رشتے کو کسی بہتر انجام تک لانے میں رکاوٹ کا سبب بنی رہی، اسی سال اگست 2022 میں اللہ نے مجھے ایک بیٹی سے نوازا، بیٹی کی پیدائش کے بعد اُس کی پرورش اور دیگر اخراجات کے پیشِ نظر مجھے عدالت سے رجوع کرنا پڑا، کیونکہ ولادت اور بیٹی کے تمام تر اخراجات مجھے اور میرے والدین کو برداشت کرنا پڑ رہے تھے اور میرے شوہر یا ان کے گھر والے ہم سے کسی قسم کا تعلق رکھنے کے روادار نہ تھے،جس دوران میں اپنے شوہر کے ساتھ رہی، وہ میرے تمام بنیادی فرائض سر انجام دینے سے قاصر تھے، اسی وجہ سےوہاں سے والدین کے گھر واپس آنے کے باوجود میرے اور میرے شوہر کے درمیان کوئی ذاتی تعلق یا رابطہ بحال نہ ہو سکا، اور بیٹی کی پیدائش کے بعد بھی اُن کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی، نہ تو میں نے شوہر کو طلاق دی، اور نہ ہی اُن کی جانب سے فوری طور پر کوئی طلاق دی گئی،عدالتی کاروائیاں جاری رہی، بچی میرے زیرنگرانی تھی، جبکہ اس کے باپ پر عدالت نے نان نفقہ طے کیا تھا جو وہ مہینوں ادا نہیں کرتا اور مجھے بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اسی وجہ سے معاملات مزید پیچیدہ ہوتے گئے،اور ہم دونوں کے درمیان کسی قسم کا ازدواجی یا گھریلو تعلق اس عرصے میں قائم نہ ہو سکا، سوائے عدالت میں پیشی کے دوران رسمی ملاقات کے،بعد ازاں مورخہ 1 فروری 2025 کو میرے شوہر نے عدالت کے ذریعے پہلی طلاق بھیجی، جس کے الفاظ کچھ یوں تھے"میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں"اس کے بعد بھی ہمارے درمیان کوئی رابطہ یا تعلق قائم نہ ہو سکا، بعد ازاں، 1 مارچ 2025 کو میرے شوہر نے انہی الفاظ کے ساتھ عدالت کے ذریعے دوسری طلاق بھی بھیجی"میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں"تاہم اب تک (یعنی تقریباً دو ماہ گزرنے کے بعد بھی) تیسری طلاق نہیں بھیجی گئی۔میرا سوال یہ ہے کہ آیا میری طلاق مکمل ہو چکی ہے یا اب بھی نکاح قائم ہے؟ کیونکہ جنوری 2022 سے اب تک (تقریباً تین سال کے قریب) میرے شوہر سے کوئی ازدواجی یا باہمی تعلق قائم نہیں رہا، اور ہمارے درمیان مکمل علیحدگی رہی ہے۔آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں تاکہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان بچ جانے والے معاملات کی قانونی و شرعی حیثیت واضح ہو سکے،آپ کی عین نوازش ہوگی۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کے جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ سائلہ کو اس کے شوہر نے یکے بعد دیگر ے صریح الفاظ میں "میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں"دو طلاقیں دی ہوں،اور دوسری طلاق کے بعد سے سائلہ کی عدّت ( تین ماہواریاں ) پوری ہو چکی ہو،اور دوررانِ عدّت شوہر نے قولاً و عملاً رجوع نہ کیا ہو،تو ایسی صورت میں یہ شرعاً سائلہ کا نکاح دو طلاقوں کے ذریعے اپنے شوہر سے ختم ہو چکا ہے،اور اب سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔
کما فی سنن الترمذی: عن عبداللّٰه قال في طلاق السنة يطلقها عند کل طهرتطليقة فإذا طهرت الثالثة طلقها وعليها بعد ذلک حيضة (ابواب الطلاق، باب طلاق السنۃ، ج 1،ص 651الرقم:2021،ط:رحمانیہ)۔
و فی بدائع الصنائع: إذا وقع عليها ثلاث تطليقات في ثلاثة أطهار فقد مضى من عدتها حيضتان إن كانت حرة لأن العدة بالحيض عندنا، وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتهاوإن كانت من ذوات الأشهر طلقها واحدة رجعية وإذا مضى شهر طلقها أخرى، ثم إذا مضى شهر طلقها أخرى ثم إذا كانت حرة فوقع عليها ثلاث تطليقات ومضى من عدتها شهران وبقي شهر واحد من عدتها فإذا مضى شهر آخر فقد انقضت عدتها الخ (کتاب الطلاق ، الطلاق بحق الصفۃوھو نوعان سنۃ وبدعۃ،ج 3، ص 89،ط: سعید)۔
و فی الدر المختار:(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة الخ
و فی الشامیۃ تحت : (قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر،الخ( کتاب الطلاق، مطلب الصريح يلحق الصريح والبائن،ج 3،ص 306،ط: سعید)۔
و فی فتح القدیر : ثم إذا أوقع الثلاثة في ثلاثة أطهار فقد مضت من عدتها حيضتان إن كانت حرة، فإذا حاضت حيضة انقضت الخ (کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ، ج:3، ص:468، ط:دارالفکر)۔