میں نے اپنی دوسری بیوی کو ایک طلاق دو ( 2) جنوری کو دی، اس کے بعد پہلی بیوی کے ساتھ مل کر 18 یا 22 جنوری کو پہلی بیوی کےموبائل سے طلاق لکھ کر بھیجی، دو میسج کیے، پہلا کہ تیمور ہوں، "طلاق دیتا ہوں" دوسرا میسج "طلاق دیتا ہوں" ، اس کے بعد اس با ت کا دوسری بیوی کو اقرار بھی کیا کہ میسج میں نے ہی کیے تھے ، اس کے کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ دوسری بیوی حاملہ ہے، میں نے کچھ مقامی طور پر دینی علم رکھنے والوں سے معلوم کیا، تو انھوں نے بولا میسج پر نام نہیں لکھا اور بیوی حاملہ بھی تھی، اس لیے طلاق نہیں ہوئی اور اب پہلی بیوی بضد ہے کہ ایک طلاق 2 جنوری کو دی تھی اور دومیسج 18یا 22،جنوری کو اکھٹے کیے، اس لیے تین طلاق ہو چکی ہیں۔ آپ راہ نمائی کریں!
واضح ہو کہ حمل کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سوال میں درج کردہ بیان کے مطابق سائل نے دو (2) جنوری کو اگر واضح اور صریح الفاظ جیسے " میں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعہ ایک طلاق دیدی ہو، تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہو چکی تھی، جس کے بعد سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی تھا، چنانچہ اس نے جب 18 یا 22 جنوری کو میسج کے ذریعہ تحریری طور پر مذکور الفاظ " میں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعہ مزید دو طلاقیں بھی دیدی ، تو اس سے اس کی بیوی پر مجموعی طور پرتینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، اس لئے میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہگار ہوں گے ، جبکہ عورت عدت ( جو کہ ایسی صورت میں وضع حمل ہے ) کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
كما في الدر المختار : ( وحل طلاقهن ) أي الآيسة والصغيرة والحامل (عقيب الوطء ) ؛ لأن الكراهة في ذوات الحيض لتوهم الحبل وهو مفقود هنا الخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 232، ط : سعيد)۔
و فيه أيضا : ( و ) في حق ( الحامل ) مطلقا ولو أمة ، أو كتابية ، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات ، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى الخ (باب العدة، ج: 3، ص: 511، ط : سعيد)-
و فی الھدایۃ: طلاق الحامل یجوز عقیب الجماع؛ لأنہ لا یؤدی إلی اشتباہ وجہ العدۃ، و زمان الحبل زمان الرغبۃ فی الوطء الخ (کتاب الطلاق، ج: 2، ص: 58، ط: البشری)۔
و فی رد المحتار: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.الخ(مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، ج: 3، ص: 246، ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: و لا یلزم کون الإضافۃ صریحۃ فی کلامہ لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ الخ ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 248، ط: سعید)۔
و في بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك ، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله - عز وجل - فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن، ج: 3، ص: 187، ط: سعيد)-