میں نشہ کرتا ہوں اور اس رات کو میں نشے کی حالت میں تھا، میری بیوی کے ساتھ لڑائی ہوئی جس میں میں نے بیوی کو طلاق کے لفظ بولے ایک یا دو مرتبہ ، بیوی کا کہناہے کہ میں نے دومرتبہ یا چارمرتبہ طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے، یہ بات کنفرم نہیں ہے کہ کتنی بار بولاہے؟ 4 یا 5 دن بیوی میرے ساتھ رہی ہے اور اس دوران ہمارا رجوع ملاپ ہواہے، اس کے بعد سب گھروالوں کو پتاچل چکاتھا اور بیوی اپنی امی کے گھر چلی گئی، اب اس بات کو تقریباً 3 سا ل ہو چکے ہیں، اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: شوہر بیوی کے کہنے پر دوطلاق کا کہہ رہا ہے ، خود اس کو کچھ یاد نہیں ہے ، جبکہ بیوی کو دو اور چار میں شک ہے، بہت غور اور سوچ بچار کے باوجود دو اور چار میں کوئی طرف غالبِ گمان کے مطابق متعین نہیں ہو رہا ہے۔
واضح ہوکہ حالتِ نشہ میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، جبکہ تعدادِ طلاق میں شک ہونے کی صورت میں اقل یعنی کم تعداد یقینی ہو تی ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے نشہ کی حالت میں طلاق دی ہو، لیکن اس کو تعداد کے بارے میں صحیح علم نہ ہو ،جبکہ بیوی کو بھی دو اور چار طلاق کے بارے میں شک ہو اور حلفیہ بیان دے چکی ہو تو ایسی صورت میں دو ہی طلاقوں کے وقوع کا حکم لگے گا، چنانچہ اس صورت میں سائل کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہیں اور دوران عدت رجوع کرنے کی وجہ سے دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے ، لہذا دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ،البتہ آئندہ کیلئے سائل کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا، لہذاآئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ: وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ، وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا فی المحيط، ولو أكره على شرب الخمر أو شرب الخمر لضرورة وسكر وطلق امرأته اختلفوا فيه والصحيح أنه كما لا يلزمه الحد لا يقع طلاقه ولا ينفذ تصرفه كذا فی فتاوى قاضی خان، الخ (كتاب الطلاق، الباب الأول فی تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه، ج 1، ص 353، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی شرح الأشباہ و النظائر: ومنھا شكّ ھل طلق أم لا ؟ لم یقع، شكّ أنّہ طلق واحدۃً أو أکثر بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابی إلا أن یستیقن بالأکثر، أو یکون أکبر ظنہ علی خلافہ، الخ ( الفن الأول قول فی القواعد الكلية، القاعدة الثالثة اليقين لا يزول بالشك، قاعدة من شك هل فعل شيئا أم لا فالأصل أنه لم يفعل، ج 1، ص 196، المرقم: 391، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ )-
وفی الھدایۃ: و أذا طلّق الرجل إمرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین، فلہ أن یراجعھا فی عدّتھا رضیت بذٰلك أو لم ترض، و الرجعۃ أن یقول: راجعتک أو راجعت إمرأتی أو یطأھا أو یقبّلھا أو یلمسھا بشھوۃ أو ینظرھا إلی فرجھا بشھوۃ، و یستحبّ أن یشھد علی الرجعۃ شاھدین، فإن لم یشھد صحّت الرجعۃ، الخ ( باب الرجعۃ، ج 2، ص 88، ط: مکتبۃانعامیۃ)-