السلام علیکم مفتی صاحب ۔
میں نے دسمبر 2023 میں طلاق نامے پر دستخط کیے تھے، جس میں، میں نے طلاق کے الفاظ اپنی زبان سے نہیں کہے تھے، نہ وہ عورت میرے سامنے تھی، اور نہ ہی اس کے گھر والے۔ میں عدالت میں اکیلا تھا، اور میری طرف سے جو گواہ ہیں جن کے دستخط طلاق نامے پر موجود ہیں، وہ بھی اس وقت موجود نہیں تھے، کیا ہماری طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ برائے کرم اس بارے میں فتویٰ مرحمت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ جس طرح منہ زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگرسائل نے بغیر کسی جبر و اکراہ کے تین طلاقوں پر مشتمل ظلاق نامہ بنو کر اس پر دستخط کر دیئے ہوں اور میاں بیوی کے درمیان رخصتی اور خلوت صحیحہ بھی ہو ٖچکی ہو،تو ایسی صورت میں اگر چہ بیوی سامنے موجود نہ ہو اور سائل نے الفاظ طلاق منہ زبانی بھی نہ کہے ہوں ۔تب بھی اس طلاق نامہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے اس کی بیوی پر طلاق نامے میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گئے ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما في بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحكمها الاصلي هو زوال الملك وزوال المحلية ايضا ، حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر اهـ ( کتاب الطلاق،ج: ۳،ص: ۱۸۷،م: سعید )
و في رد المحتار: تحت (قولہ طلقت بوصول الكتابة) اى اليها الى قولہ) ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرائه على الزوج وختمه وعنونہ وبعث به اليها فاتاها وقع الخ(الطلاق بالکتابة،ج:۳ ،ص: ٢٤٦ ، م : سعید )
وفی رد المحتار:"وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو". اھ (ج: 3، ص: 246، ط: دار الفکر)
وفی الفتاوی الھندیۃ:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز، أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔ اھ (کتاب الطلاق، ١ / ٤٧٣)