السلام علیکم میں سنی ہو ں ،میرے شوہر اہل تشیع ہے، انہوں نے مجھے ایک ساتھ تین طلاقیں دیں نفاس کی حالت میں ،اور تھوڑی دیر میں پھر میرے ساتھ رجوع کرلیا۔کیونکہ وہ کہتے ہیں میرے مسلک میں ایسے طلاق نہیں ہوتی ، تو آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ میرا رشتہ انکے ساتھ جائز ہے یا نہیں ؟میں کیا کرو ؟
پلیز آپ میری رہنمائی فرمائیں ، میں اپنی بچی کو نہیں چھوڑ سکتی ، جلدی جواب کا انتظار ہے مجھے۔
واضح ہو کہ شیعوں کی مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد اور نظریات بھی مختلف ہیں،اس لئے شیعوں کےساتھ مناکحت اختیار کرنے میں تفصیل ہے،وہ یہ ہےکہ جس شیعہ کا تعلق فرقہ اثنا عشریہ سے ہو یا جس کے عقائد اور نظریات یہ ہوں کہ مثلا '' حضرت علی کو خدامانتا ہو،یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو،یا حضرت جبرئیل کے وحی لانےمیں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو،یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو ،یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کامنکر ہو،یا اس قسم کاکوئی دوسرا کوئی عقیدہ جوقرآن کریم کے صریح امر کے خلاف کفریہ عقیدہ ہوتو ایسے عقائدکے حامل شیعہ مرد سےسنی العقیدہ لڑکی کا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا ،اب اگر سائلہ کا شوہر درج بالا عقائد کا حامل ہو تو سائلہ کا اس سے نکاح ہی منعقد نہیں ہوا اور نہ ہی سائلہ شرعا اس کی بیوی ہے لیکن اگر وہ ان مذکورہ بالا عقائد یا کسی قسم کے کفریہ عقیدے کا بھی حامل نہ ہو تو سائلہ کا اس سے نکاح درست منعقد ہوا تھا اور اب اگرچہ حالت نفاس میں اس نے طلاق دی ہے مگر ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کی وجہ سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر دونوں کے درمیان حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور نکاح ختم ہوچکا ہے اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ تجدید نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ فی الفور اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرے ورنہ سخت گنہگار ہوگی ۔
کما فی الدر المختار: (أو) الكافر بسب (الشيخين أو) بسب (أحدهما) في البحر عن الجوهرة معزيا للشهيد من سب الشيخين أو طعن فيهما كفر ولا تقبل توبته، وبه أخذ الدبوسي وأبو الليث، وهو المختار للفتوى انتهى اھ
وفی الشامیة: تحت قوله:(لکن فی النھر) نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (ج:4،ص:237، مطلب التونة اليأس دون الايمان مطبع: ایچ ایم سعید)
و فى الهداية: وطلاق الامة ثنتان حرا كان زوجها او عبداوطلاق الحرةثلاث حرا كان زوجهااو عبدا .(ج :٢ ، ص :٨٨٦، مط بشرىٰ)