السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
امید ہے آپ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے، میں یہ پیغام ایک اہم دینی مسئلے پر مفصل فتویٰ لینے کے لیے ارسال کر رہا ہوں، جو کہ خلع سے متعلق ہے، میری شادی ایک سال قبل نکاح کے ذریعے ہوئی تھی، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی یعنی نہ ہم نے ساتھ رہنا شروع کیا ہے اور نہ ہی ازدواجی تعلق قائم ہوا ہے،حال ہی میں لڑکی والوں نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ وہ یہ نکاح ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے وجوہات درج ذیل ہیں:( 1 ) وہ جہیز یا دیگر تحائف سے ناخوش ہیں اور انہیں ان کی قیمت کم محسوس ہوئی ( 2 ) میرے والد صاحب دبئی سے آئے تھے لیکن انہوں نے لڑکی والوں کے گھر آ کر ملاقات نہیں کی۔
ان وجوہات کے باوجود، میں ذاتی طور پر طلاق دینا نہیں چاہتا۔ لیکن لڑکی کے والد اس نکاح کو ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔میری گزارش ہے کہ آپ درج ذیل سوالات کا تفصیلی، شرعی اور حوالہ جات کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں:
( 1 ) اگر لڑکی کے گھر والے پاکستان کی سول عدالت سے میری رضامندی کے بغیر خلع لے لیں، تو کیا یہ خلع شریعتِ اسلامیہ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک درست اور مؤثر ہوگا؟
( 2 ) چونکہ ابھی رخصتی نہیں ہوئی اور جسمانی تعلق بھی نہیں ہوا، تو کیا اس صورتحال میں خلع کا جواز یا شرعی حیثیت کچھ مختلف ہوگی؟
( 3 ) عمومی طور پر کن شرعی وجوہات کی بنیاد پر عورت خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے؟ براہِ کرم قرآن، حدیث اور معتبر فقہی مراجع سے وہ اسباب ذکر فرمائیں جن کی بنیاد پر عورت خلع مانگ سکتی ہے۔
واضح ہوکہ شریعتِ اسلام میں خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک ایسا عقد ہے جس میں فریقین کی رضامندی کا پایاجانا بھی ضروری ہے ، جبکہ عدالتوں میں خلع کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں میں اگر شوہر کی رضامندی شامل نہ ہو ، اور عورت کی طرف سے پیش کی گئی درخواست میں فسخ نکاح کے لیے شرعی وجوہات میں سے کوئی وجہ بھی نہ ہو ، یا اس کو ثابت نہ کیا گیا ہو، تو عدالت سے حاصل ہونے والی ڈگری کا فیصلہ اگرچہ قانوناً تو معتبر ہوتا ہے لیکن شرعاً مؤثر نہ ہونے کی وجہ سے اس ڈگری کے حصول کے باوجود بھی شوہر بیوی کے درمیان نکاح بدستور قائم رہتا ہے ،
جبکہ خلع کا مطالبہ کرنے کے لیے محض وقتی ناراضگی یا معمولی وجوہات کافی نہیں ، بلکہ مطالبۂ خلع کے لیے عورت کے پاس کسی شرعی وجہ کا ہونا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اس قدر ناچاکی پیدا ہو جس کی وجہ سے دونوں کو اس بات کا خوف ہو کہ مزید وہ اپنی ازدواجی زندگی میں حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے ،تو اس صورت میں عورت شرعاً خلع لے سکتی ہے ، لیکن اگر خلع کی درخواست میں کوئی شرعی وجہ موجود ہواور مرد نے اس کا دفاع بھی نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں یہ فیصلہ بھی فسخِ نکاح کے طور پر مؤثر ہوتا ہے ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں فریقین کے بااثر بڑوں کو چاہییے کہ باہم بیٹھ کر مصالحت کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں، ورنہ عدالت جانے سے بہتر ہے کہ باہمی رضامندی سے ختم کریں ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فإن خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ... اللآية(بقرة:229)
و فی أحکام القرآن للجصاص : قال أصحابنا لا یجوز خلعھما إلا برضی الزوجین فقال أصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا إلا برضی الزوجین لأن الحالم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان و إنما الحکمان وکیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ و الآخر وکیل الزوج فی الخلع إلخ ( ج 3 ، ص 153)-
کما فی ابی داؤد 2228 - حدثنا محمد بن معمر ، نا أبو عامر عبد الملك بن عمرو ، نا أبو عمرو السدوسي المديني ، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ، عن عمرة ، عن عائشة : «أن حبيبة بنت سهل كانت عند ثابت بن قيس بن شماس فضربها فكسر بعضها فأتت النبي صلى الله عليه وسلم بعد الصبح فاشتكته إليه فدعا النبي صلى الله عليه وسلم ثابتا فقال: خذ بعض مالها وفارقها فقال: ويصلح ذلك يا رسول الله قال: نعم قال: فإني أصدقتها حديقتين، وهما بيدها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم خذهما، وفارقها ففعل.»( باب الخلع، ج 2، ص 336، رقم 2228، ط المطبعۃ الأنصاری دھلی )-
کمافی مصنف عبد الرزاق : • [12745] عبد الرزاق، عن معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين، عن عبيدة السلماني،قال: شهدت علي بن أبي طالب وجاءته امرأة وزوجها مع كل واحد منهما فئام من الناس، فأخرج هؤلاء حكما من الناس، وهؤلاء حكما، فقال علي للحكمين: أتدريان ما عليكما؟ إن رأيتما أن تفرقا فرقتما، وإن رأيتما أن تجمعا جمعتما، فقال الزوج: أما الفرقة فلا، فقال علي: كذبت، والله لا تبرح حتى ترضى بكتاب الله لك وعليك، فقالت المرأة: رضيت بكتاب الله تعالى لي وعلي.اھ ( باب الحکمین، ج 6، ص 506، ط دار التأصیل )-
و فی المبسوط: و الخلع جائز عند السلطان و غیرہ لأنہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود اھ ( ج 6، ص 173 )-
و فی البدائع فقد اختلف فی ماھیۃ الخلع قال أصحابنا ھو طلاق و ھو مروی عن عمر و عثمان ر ضی اللہ عنھما و للشافعی قولان فی قول مثل قولنا و فی قول لیس بطلاق بل ھو فسخ و ھو مروی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، فائدۃ الاختلاف أنہ إذا خالع امرأتہ ثم تزوجھا تعود إلیہ بطلاقین عندنا و عندہ بثلاث تطلیقات حتیٰ لو طلقھا بعد ذلک تطلیقتین حرمت علیہ حرمۃ غلیظۃ عندنا و عندہ لا تحرم إلا بثلاث ( إلی قولہ ) و أما بیان کیفیۃ ھذا النوع فنقول لہ کیفیتان إحدھما أنہ طلاق بائن لأنہ من کنایات الطلاق و إنھا بوائن عندنا و لأنہ طلاق بعوض و قد ملک الزوج العوض بقبولھا فلا بد و إن تملک ھی نفسھا تحقیقاً للمعاوضۃ و لا تملک نفسھا إلا بالبائن فیکون طلاقاً بائناً و لأنھا إنما بذلت العوض لتخلیص نفسھا عن حبالۃ الزوج و لا تتخلص إلا بالبائن إلخ ( ج 3، ص 144، ط سعید )-
فی الھندیۃ : إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية إلخ ( کتاب الطلاق،الباب الثامن في الخلع وما في حكمه،الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج 1، ص 488، ط دار الفکر )-
و فی البحر : ( قولہ الواقع بہ و بالطلاق علی مال طلاق بائن ) أی بالخلع الشرعی أما الخلع فلقولہ علیہ الصلوۃ و السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ و إنہ یحتمل الطلاق حتی صادر من الکنایات بائن إلخ ( باب الخلع، ج 4، ص 71، ط ماجدیۃ )-