السلام علیکم،
ایک مسئلے پر راہنمائی درکار تھی۔ گھریلو ناچاقی کی بنا پر اکثر میرے اور میری اہلیہ کے درمیان لڑائی رہتی تھی۔ بحث مباحثے کی حد تک۔
تاہم بیچ میں دو دفعہ غصے میں زبانی (ایک ایک دفعہ نہ کہ تین دفعہ) طلاق دی۔
بعد ازاں معاملات بڑھنے کے باعث میں نے انہیں طلاق کے کاغذات بھجوائے نوٹس کی غرض سے۔
لیکن تیسرے حیض سے قبل میں نے ان سے واٹس ایپ پر بات کی اور طلاق واپس لینے پر ہمارا اتفاق ہوا۔
اب وکیل کا کہنا ہے کہ طلاق واقع ہو چکی ہے جب کہ میں اس سلسلے میں آپ سے راہنمائی چاہتا ہوں۔
شکریہ
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں، اس سے بہر صورت تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں ، اسی طرح زبان سے کہے بغیر ہی اپنی رضا مندی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے تحریری طلاق لکھنے اور اس پر دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذ ا صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر طلاق کا نوٹس بجھوانے سے پہلے اپنی بیوی کوواضح اور صریح الفاظ جیسے "طلاق دیتا ہوں " کے ذریعہ دو طلاقیں الگ الگ مجلسوں میں دی ہو تو اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاقیں واقع ہوچکی تھیں اور دوران عدت ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہنے کی وجہ سے رجوع بھی ہوچکا تھا ۔ لیکن اس کے بعد سائل کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی تھا ، بعد ازاں جب سائل نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوا کر نوٹس کی غرض سے بیوی کو ارسال کیا تو اس سے سائل کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جبکہ بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، لہذا اب دوبارہ رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما في الشامية : ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع اه (كتاب الطلاق ،مطلب في الطلاق باالكتابة ، ج: ٣، ص: ٢٤٦، مط: سعيد )
وفي الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفی الہندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اہ (الباب السادس فی الرجعۃ،ج: ١،ص: ٤٧٠، مط: ماجدية)