السلام علیکم! مفتی صاحب! میری بیوی بدکردار ہے ،اس کے کال میسجز پکڑے گئے، ویڈیو کیمرےمیں پکڑی گئی ،رات کو 10 بجے بندہ اندر داخل کیا اور دیر رات پر نکالا جو مجھے لوگوں نے دکھایا یہ مان بھی گئی ،پھر مجھ سے معافی مانگی لیکن کچھ عرصہ بعد بھا ئی نے پھر اس کے واٹس ایپ پر میسجز پکڑے اور میں نے خود اس کا 22 دن کا ڈیٹا پکڑا ،پھر ہم نے اس کی آڈیو ریکارڈنگ کی کہ یہ گھر میں کیا کرتی ہے، ریکارڈنگ میں اس نے شریعت کی حدود کو پامال کر کے ویڈیو سیکس کیا اجنبی مرد کے ساتھ بیٹھ کر ،پھر میرے بڑے بچے نے چار جگہیں بتائیں، جہاں یہ اس بندے کے ساتھ گئی تھی ،اور ایک ہوٹل میں گئی جہاں پر sexکیا، بچوں کو ساتھ لے گئی ،یہ بھی مجھے بچے نے بتایا، اب جب پکڑی گئی ہے، گھر سے بھاگ گئی ہے اور عدالت میں بچو ں کے خرچ اور نان نفقہ کا دعویٰ کر دیا ہے، اور 3 سال سے حق زوجیت بھی ادا نہیں کیا،ایسی عورت کیا بچے رکھنے کی مستحق ہے؟ میرے بڑے بچے کی عمر 10 سال اور بیٹی کی عمر 6 سال ہے، ایسی عورت کو طلاق دینا کیسا ہے؟ اگر عدالت طلاق کی صورت میں حق مہر کی ڈگری جاری کرتی ہے؟جو ایک لاکھ ہے غیر معجل کیا وہ بدکار اس کی مستحق ہے؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ ً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، تو سائل کی بیوی کا غیر مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا شرعاً ناجائز اور حرام عمل تھا ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے ، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و ا ستغفار اور آئندہ کے لیےاس جیسے حرام کاموں سے اجتناب لازم ہے ،اور اگر سمجھانے کے باوجود اپنے کئے ہوئے پر پریشان نہ ہو ، تو سائل کے لیے اسے طلاق دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ،البتہ اگر طلاق دینے سے قبل سائل نے حقِ مہر ادا نہ کیا ہو اور نہ ہی بیوی نے معاف کیا ہو ،تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ حقِ مہر کی ادائیگی لازم ہو گی ،جبکہ طلاق اور علیحدگی ہو جانے کی صورت میں بچوں کی کفالت کا حکم یہ ہے کہ بیٹے کی عمر چونکہ دس سا ل ہو چکی ہے ،اس لیے سائل اسے اپنی تحویل میں لیکر اپنے زیر ِ تربیت رکھ سکتا ہے ، البتہ بیٹی کی عمر چونکہ چھ سال ہے ،اس لیے بیٹی کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی ماں کو حاصل ہے ، بشرطیکہ اس دوران وہ بچی کے کسی غیر ذی رحم محرم کے ساتھ نکاح نہ کرے ، یا اس کے علاوہ حق ِ پرورش کو ساقط کرنے والا کوئی اور عذر نہ پایا جائے ، لہذا اگر طلاق کے بعد سائل کی بیوی بچی کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح کرے یا نکاح تو نہ کرے ،لیکن وہ کچھ ایسے امور میں ملوث ہو جس کی وجہ سے بچی کی پرورش صحیح طریقے سے نہ ہو سکتی ہو، تو ایسی صورت میں اس کا حقِ پرورش ساقط ہو جائے گا ،اس کے بعد بچی کی نانی ،اور نانی کے نہ ہونے کی صورت میں بچی کی دادی ، پھر خالہ، پھر پھوپھی کو بالترتیب بچی کی پرورش کا حق حاصل ہو گا ، تا ہم مذکور مدت کے بعد سائل بچی کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ،اور دورانِ پرورش بچی کی کفالت پر آنے والے اخراجات سائل کے ذمہ لازم ہوں گے۔
کما قال اللہ تعالی: الطلاق مرتان فامساک بمعروف أو تسریح باحسان و لا یحل لکم أن تأخذو مما آتیتموھن شیئا إلا أن یخافا أن لا یقیما حدود اللہ فان خفتم ان لا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ( الآیۃ 229، سورۃ البقرۃ)۔
وفی الدر المختار:لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا الخ ( کتاب النکاح ج: 3، ص: 50،ط: سعید)۔
و فیہ أیضا: ( تثبت للام ) النسبیۃ ( و لو) کتابیۃ أو مجوسیۃ أو ( بعد الفرقۃ إلا أن تکون مرتدۃ ) فحتی تسلم لانھا تحبس (أو فاجرۃ ) فجورا یضیع الولد بہ کزنا و غناء و سرقۃ و نیاحۃ کما فی البحر و النھر الخ
و فی الشامیۃ تحت: ( قولہ کما فی البحر و النھر بحثا ) قال فی البحر و ینبغی أن یکون المراد بالفسق فی کلامھم ھنا الزنا المقتضی لاشتغال الام عن الولد بالخروج من المنزل و نحوہ لا مطلقہ الصادق بترک الصلاۃ ( الی قولہ) قال فی النھر: و اقول فی قصرہ علی الزنا قصور اذ لو کانت سارقۃ أو مغنیۃ أو نائحۃ فالحکم کذالک و علی ھذا فالمراد فسق یضیع الولد بہ الخ ( باب الحضانۃ ج: 3،ص: 555، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ:أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق. ولا تجبر عليها في الصحيح لاحتمال عجزها إلا أن يكون له ذو رحم محرم غيرها فحينئذ تجبر على حضانته كي لا يضيع بخلاف الأب حيث يجبر على أخذه إذا امتنع بعد الاستغناء عن الأم كذا في العيني شرح الكنز، وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير. ذكر الخصاف في النفقات إن كانت للصغيرة جدة من قبل أبيها وهي أم أبي أمها فهذه ليست بمنزلة من كانت من قرابة الأم من جهة أمها كذا في البحر الرائق.، فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأب وأم، فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأم، فإن ماتت أوتزوجت فبنت الأخت لأب وأم، فإن ماتت أو تزوجت فبنت الأخت لأم لا تختلف الرواية في ترتيب هذه الجملة إنما اختلفت الروايات بعد هذا في الخالة والأخت لأب ففي رواية كتاب النكاح: الأخت لأب أولى من الخالة وفي رواية كتاب الطلاق: الخالة أولى وبنات الأخوات لأب وأم أو لأم أولى من الخالات في قولهم واختلفت الروايات في بنات الأخت لأب مع الخالة والصحيح أن الخالة أولى وأولى الخالات الخالة لأب وأم، ثم الخالة لأم، ثم الخالة لأب، وبنات الإخوة أولى من العمات والترتيب في العمات على نحو ما قلنا في الخالات كذا في فتاوى قاضي خان، ثم يدفع إلى خالة الأم لأب وأم، ثم لأم، ثم لأب، ثم إلى عماتها على هذا الترتيب.وخالة الأم أولى من خالة الأب عندنا، ثم خالات الأب وعماته على هذا الترتيب كذا في فتح القدير. والأصل في ذلك أن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات فكانت جهة الأم مقدمة على جهة الأب كذا في الاختيار شرح المختار. بنات العم والخال والعمة والخالة لا حق لهن في الحضانة كذا في البدائع. وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان. ومن سقط حقها بالتزوج يعود إذا ارتفعت الزوجیۃ الخ ( الباب السادس عشر فی الخضانۃ ج: 1،ص:541،ط: ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: و الأم و الجدۃ أحق بالغلام حتی یستغنی و قدر بسبع سنین و قال القدوری حتی یأکل و یشرب و یستنجی و حدہ و قدرہ ابو بکر الرازی بتسع سنین و الفتوی علی الاول الخ ( باب الخضانۃ ج:1، ص: 542،ط:ماجدیۃ )۔
وفیھا أیضا: و بعد الفطام یفرض القاضی نفقتہ الصغار علی قدر طاقۃ الأب و تدفع الی الأم حتی تنفق علی الأولاد فإن لم تکن الأم ثقۃ تدفع الی غیرھا لینفق علی الولد الخ ( الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الرابع فی نفقۃ الاولاد ج: 1، ص: 561،ط: ماجدیۃ)
وفیھا أیضا: و المھر یتأکد بأحد معان ثلاث الدخول و الخلوۃ الصحیحۃ و موت أحد الزوجین سواء کان مسمی أو مھر المثل حتی لا یسقط منہ شیئ بعد ذلک إلا بالإبراء من صاحب الحق کذا فی البدائع الخ ( الباب السابع فی المھر الفصل الثانی،ج:1،ص: 232، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔