السلام علیکم ! جناب مفتی صاحب ! میرا نام۔۔۔ہے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے ایک ماہ پہلے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دی تھیں، اس پر کوئی گواہ موجود نہیں تھا، البتہ طلاق نامہ بھی دے دیا ہے، ہماری ڈیڑھ سال کی بیٹی بھی ہے، اب مجھے سخت پشیمانی ہے اور میں رجوع کرنا چاہتا ہوں۔
براہِ کرم اگر اس میں کوئی شرعی گنجائش ہو تو مہربانی فرما کر مجھے رہنمائی دیں۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے ،اور اس پر گواہوں کا ہونا بھی شرعا ضروری نہیں، چنانچہ سائل نے ایک ماہ قبل جب اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دی تھیں، اور اس کا باقاعدہ طلاق نامہ بھی بنوا کر دے دیا ہے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے دوسرے مسلمان سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری(جوکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کیلئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا پھر ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دے گا، تاکہ وہ زوجِ اول کیلئے حلال ہوجائے مکروہ ہے، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ نکاح کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها اھ ( ج 1 ، صـــ 386 )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت معصية اھ ( ج 1 ، صـــ 387 )
و فی الفتاوى الهندية: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية ولا فرق فی ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا فی فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل و هو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.أما الإنزال فليس بشرط للإحلال(1/ 473)۔