میری عمر ۲۳ سال ہے۔ میں نے ۲۲ مارچ ۲۰۲۵ کو ایک لڑکی سے نکاح کیا تھا۔ چار مہینے سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اس نکاح میں والدین کی رضامندی شامل نہیں تھی ۔ میری شادی سے لڑکی کے گھر والے بھی خوش نہیں تھے۔ میں نے ۹ جون کو غصے میں آ کر فون پر اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے دی تھی، کیونکہ اُس نے مجھے گالیاں دی تھیں اور میں برداشت نہ کر سکا۔اب میری بیوی کہہ رہی ہے کہ ”میں قرآن پاک کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں نے طلاق کے الفاظ سنے ہی نہیں“۔ مجھے آپ سے اس طلاق کے بارے میں فتویٰ لینا ہے کہ آیا میری بیوی کو طلاق ہو چکی ہے یا نہیں۔ طلاق کے الفاظ یہ تھے ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں“ یہ الفاظ میں نے تین بار کہے تھے۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کے لیے بیوی کا الفاظِ طلاق سننا شرعاً ضروری نہیں ہے، بلکہ شوہر کے صرف الفاظِ طلاق کی ادائیگی سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ میں ”تمہیں طلاق دیتا ہوں“ تین بار کہہ دیے، تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے۔ اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہگار ہوں گے۔ جبکہ عورت ایامِ عدّت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (البقرۃ:230)
و فی الفتاوى الهندية: و إذا قال لامرأته أنت طالق و طالق و طالق و لم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا (الفصل الأول فی الطلاق الصريح،ج:1، ص: 355، ط: ماجدیہ)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: "أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق و أنت طالق، و إذا قال: أنت طالق" (الی قولہ) (قوله و إن نوى التأكيد دين) أي و وقع الكل قضاء،(مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به، ج:3، ص:293، ط: سعید)۔