السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں ،ایک کے بعد ایک تین طلاقیں دی ہیں ،ایک منٹ کے اندر ،میرے شادی کو ڈھائی سال ہو گئے ہیں،اور میری ایک بیٹی بھی ہے تین ماہ کی ، ڈھائی سال تک میری بیوی مجھ سے جھگڑا کرتی رہی ،اور میرے والدین کو گالیاں بھی دیتی رہی ،اور مجھے روز کہتی تھی کہ طلاق دو ،جس کی وجہ سے میں نے اسےطلاق دے دی ،وجہ گالی ہے،اور اب دوبارہ مجھ سے شادی کا کہہ رہی ہے، میرے طلاق کو دو ہفتے ہوئے ہیں ۔
تفصیلاً جواب درکار ہے،جزاک اللہ خیراً
نوٹ:الفاظِ طلاق یہ تھے کہ "میں نے تمہیں طلاق دی ""میں نے تمہیں طلاق دی ""میں نے تمہیں طلاق دی "
صورتِ مسؤلہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کومذکور الفاظ " میں نے تمہیں طلاق دی“ تین مرتبہ کہہ دیے ہیں،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایامِ ِعدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدتِ طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعد یا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یابیوی سے پہلےشوہرکا انتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہے، اورپہلاشوہربھی اس کو رکھنےپررضامندہو،تونئے مہرکےساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کےبعدطلاق دےگا،تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہوجائے مکروہِ تحریمی ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة(البقرہ:230)۔
وفی الھندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(1/473)۔