کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو موبائل کے ذریعے میسج کیا کہ تجھے طلاق ہے طلاق طلاق ہے۔ تین مرتبہ کیا اس طرح طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں ۔
اگر میسج شوہر ہی نے بھیجا ہو تو اس سے اس کی بیوی ہر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا،اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد آزاد ہے، جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔
کمافي الدر المختار: (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: (إلی قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ (3/ 246)۔
و في الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/ 473) والله اعلم بالصواب