کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ گھر میں میری بیوی سے ہر وقت تو تو، میں میں ہوتی تھی،کئی بار اس نے مجھ سے کہا کہ مجھے طلاق دو، یا اکیلا گھر دو، یا مجھے اپنے باپ کے گھر بیٹھاؤ، ایک دن اس کے والد میرے گھر آیا اور اپنی بیٹی کو مارا، اس نے خود کو گولی مارنے کی کوشش کی، میرے سسر نے ناکام بنا دیا، اس کے بعد کئی بار دھمکی دی، خودکشی کی کوشش کی ،ایک صبح میں تنگ آکر اپنی بیوی کو طلاق دی، 3 بار طلاق دی ہے الفاظ طلاق یہ تھے’’ میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘۔ اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ بتا کر ثواب داریں حاصل کریں ،نیز اگر طلاق ہو چکی ہے ،تو دوبارہ اپنے پاس رکھنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ مہر کے بارے میں واضح فیصلہ دیں ۔ جبکہ عورت سات مہینے کی حاملہ ہے تو عدت کا حکم بھی بیان فرمائیں ۔
مذکور خط کشیدہ الفاظ بولنے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا ،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت ( جو کہ صورت مسئولہ میں وضع حمل تک کا زمانہ ہے) گزار نے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کرنا چاہے ،تو کر سکتی ہے ،عقد نکاح کے وقت جو مہر مقرر ہوا تھا، اس کا ادا کرنا بھی شوہر کے ذمہ لازم ہے، جبکہ حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام عدت کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے عقد نکاح کرے، ایسا کرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے ، بہر دو صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے حق مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے وہ باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں اور اس صورت میں شوہر کو از سر نو تین طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
کما قال اللہ تعالیٰ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
و في الهداية شرح البداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اھ (2/ 10) واللہ اعلم بالصواب