کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ بہت بار کیا ،جب بھی کوئی مسئلہ ہو تا چھوٹی سے چھوٹی بات ہوتی، تو وہ ہمیشہ یہی مطالبہ کرتی ،اور میں بھی غصے میں کہہ دیتا کہ ٹھیک ہے دے دونگا ،مگر کوئی حل نہیں نکلتا، پھر اس نے طلاق کا مطالبہ قرآن بیچ میں لاکر کرنا شروع کیا کہنے لگی ،مجھے تمہاری زبان پر اعتبار نہیں، بہت بار کہتے ہو کہ چھوڑ دونگا، اب قرآن کی قسم کھاؤ اسے اٹھاؤ، اور بولو کہ چھوڑ دونگا میں نہیں مانا ،اور اسی جھگڑے میں 15 منٹ گزر گئے، پھر مجھے کہا کہ ایسے اٹھاتے ہو، یا میں اس کی توہین کروں ،تو میں نے قرآن ہاتھ میں لیا ،اور کہا کہ ہاں میں تمھیں اب طلاق دے دونگا، اور اسے چوم کر رکھ دیا ، پھر آدھے گھنٹے بعد اس نے کہا کہ تم مجھے اس بچے کی وجہ سے نہیں چھوڑ رہے ہیں، اس بچے کو ہی مار دیتی ہوں ،اس نے کوپیکس (کیڑے مارنے کا پاوڈر) پانی میں گھول کر اسے پلانے کی کوشش کی، میں نے اس کے ہاتھ سے لے کر پھینک دیا، اور 3 دن بعد اسے میں شہر سے باہر کوئٹہ لے گیا ،تاکہ ماحول تبدیل ہو ،اور اس کا دماغ درست ہو، مگر کوئٹہ جا کر بھی اسی طرح بچے کو مارتی، اور کہتی کہ یہ فساد کی جڑ ہے، ورنہ میں کب کی الگ ہو جاتی ،اور سردی میں اس کا خیال نہیں رکھتی بچہ بیمار ہو گیا سردی میں، واپس کراچی لے آیا اور بچہ ہسپتال میں دو دن داخل رہا۔
کچھ دن بعد پھر اس نے کہا کہ مجھے ابھی تک تم نے اپنے آپ سے الگ نہیں کیا، پورا دن اسی بات پر بحث ہوتی رہی، رات کے 3 بچے تک اور آخر میں پھر قرآن لے آئی ،اور مجھے کہنے لگی کہ مجھے تمہاری بات پر اعتبار نہیں، مجھے جلد سے جلد الگ کرو ورنہ میں خودکشی کر لونگی، اور بچے کو بھی مار دونگی، میں نے کہا ہاں کر دونگا فیصلہ کیا نہیں ،وہ قرآن بیچ میں لائی اور کہا اس کی قسم کھاؤ ،ور نہ تمہیں پتہ ہے ،میں کیا کر سکتی ہوں ،میں نے کہا ہاں میں قرآن کی قسم کھاتا ہوں ،تمہیں جلد از جلد الگ کرونگا، ہمیشہ کے لئے طلاق دونگا ،تمہیں اور پھر اس کے گھر فون کیا، وہاں سے جواب ملا کہ تم لوگوں کا آپس کا مسئلہ ہے خود ہی حل کرو ۔ میں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ دوسرے کمرے میں بھیجوا دیا ،اب مسئلہ یہ ہے کہ میں قرآن کی قسم دوبار کھا چکا تھا کہ طلاق دونگا ۔ دوسری بار قسم کھائی کہ جلد از جلد دونگا، تو میں نے عید والے دن ( اگلے دن) ہی اسے ایک طلاق دے دی ،اور پھر عید کے دوسرے دن اپنے موبائیل سے SMS کیا کہ میں.......... کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق دیتا ہوں اور اس SMS کی کاپی اس کے دونوں چچا، دونوں بھائیوں اپنے والد اور اپنے بھائی کو بھیج دی۔ اس کا شرعی مسئلہ کیا ہے؟ کیا میری طلاق واقع ہوگئی ہے ،کیونکہ میں نے اپنے دل اور دماغ سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ کیا ہے اور اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کیا ہے، اور آج بھی اس فیصلے سے مطمئن ہوں ۔
سائل کا بیان اگر واقعی درست اور حقیقتِ حال کے موافق ہو تو اس صورت میں اس کی بیوی کا اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ مذکور رویہ قطعاً درست نہیں، وہ اپنے اس نا جائز طرزِ عمل اور بلا وجہ شرعی طلاق لینے کی بناء پر گناہ گار ہوئی ۔
تاہم جب سائل نے اسے تین طلاقیں دیدی ہیں، تو اس سے حرمتِ مغلظہ ثابت ہو کر ان دونوں کا باہم عقدِ نکاح ختم ہو چکا ہے۔ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ سائل دوسری جگہ شادی کرنے میں اب شرعاً و قانوناً آزاد ہے، جبکہ مطلَّقہ ایامِ عدت گزار نے کے بعد کسی بھی دوسرے مسلمان سے نکاح کر سکتی ہے۔
کما في الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/ 473)۔