میری اپنی بیوی کے ساتھ اپنے کمرے میں کسی بات پہ لڑائی ہوئی تھی ، تو میری بیٹی گھر چھوڑ کے جارہی تھی، تب میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ "اگر بیٹی گھر چھوڑ کے گئی تو آپ کو طلاق ہے"حالانکہ میری بیٹی میرے الفاظ ادا کرنے سے پہلے گھر سے نکل چکی تھی، اور میری بیوی نے اسے آواز بھی دی، لیکن وہ پہلے ہی نکل چکی تھی، جب میں اسے نیچے لینے گیا تو اس وقت تک گھر سے جا چکی تھی، اب اس بات کو ایک ماہ ہو چکا ہے، میری بیوی میرے ساتھ رہ رہی ہے اور بیٹی بھی ساتھ ہے ،ایک بار پھر کسی بات پہ بحث مباحثہ ہوا تو بیوی میکے چلے گئی ہے، اب میری چھوٹی بیٹی یہ بات کہہ رہی ہے کہ امی کو طلاق ہو چکی ہے، میں اﷲ تعالی کو حاضر جان کر گواہی دیتا ہوں، جو بات آپ سے کی ہے ،مکمل سچ ہے ،کیا میری بیوی کو طلاق ہوئی ہے کہ نہیں؟
واضح ہو کہ طلاق کو کسی ایسی شرط پر معلق کرنا کہ جس کا وجود اس وقت ممکن ہی نہ ہو، تواس شرط کا شرعا اعتبار نہیں ہوتا اور طلاق واقع نہیں ہوتی،لہذا سائل کا بیان اگر واقعتاً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گو ئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعتا سائل نے جب مذکور جملہ "اگر بیٹی گھر چھوڑ کے گئی تو آپ کو طلاق ہے" کہا،اس سے پہلے ہی سائل کی بیٹی گھر چھوڑ کر جا چکی تھی اور سائل کو بیٹی کے گھر سےنکل جانے کا علم نہیں تھاتو اب یہ جملہ کالعدم شمار ہوگا،اور سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،لہذا دونوں حسب سابق ساتھ رہ سکتے ہیں،تاہم آئندہ کے لیے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ۔ (فصل فی تعلیق الطلاق،ج: 1،ص: 420،ط: ماجدیہ)۔
وفی تبیین الحقائق: (إن لم أشرب ماء هذا الكوز اليوم فكذا ولا ماء فيه أو كان فصب أو أطلق ولا ماء فيه لا يحنث وإن كان فصب حنث) أي رجل قال لامرأته إن لم أشرب الماء الذي في هذا الكوز اليوم فأنت طالق وليس فيه ماء أو كان فيه ماء فصب قبل غروب الشمس أو أطلق اليمين أي لم يقل اليوم وليس في الكوز ماء لم يحنث في هذه الصوركلهاوإن كان فيه فصب حنث أي في المطلق وهو ما إذا لم يقل اليوم فحاصله أن هذه المسألة على وجهين إما أن يكون مؤقتة باليوم أو لم تكن مؤقتة به وكل وجه على وجهين إما أن يكون فيه ماء فصب أو لا يكون فيه ماء أما في المؤقت لا يحنث في الوجهين لأنه إن لم يكن فيه ماء يستحيل الشرب منه واليمين على المحال لا تنعقد وكذلك إن كان فيه ماء فصب قبل الليل لأن البر في المؤقت يجب في آخر الوقت الخ۔ (کتاب الایمان،ج:3،ص:478،ط:دارالکتب العلمیۃ)۔