السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میری شادی 2014 میں کورٹ میرج کے ذریعہ ہوئی تھی ۔ میں نے اپنی بیوی کو ایک سال پہلے ایک طلاق دی تھی ، اور دوسری طلاق تقریبا ً آج سے چار ، چھ مہینے کے درمیان دی تھی ، اور اب میں نے کورٹ کے ذریعے تین طلاقیں دے دی ہے ۔ میں پوری کوشش کررہا تھا کہ میرا گھر بس جائے مگر ساس میرے خلاف تھی ، اس نے کہا کہ میں طلاق کروادوں گی، جب کہ وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئی 10-16-25 کو ۔ اب مجھے یہ فتویٰ دے دیں کہ وہ شرعی طور پر شوہر کے گھر رہ سکتی ہے کہ نہیں ؟
نوٹ : پہلی مرتبہ طلاق کے الفاظ یہ تھے ” فوزیہ میں نے تمہیں طلاق دی ” دوسری مرتبہ طلاق ان الفاظ میں دی ” فوزیہ میں تمہیں دوسری طلاق دیتا ہوں ” ان دونوں طلاقوں کے بعد رجوع کرلیا تھا ، اب میں نے طلاقیں اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے ایک سال قبل اپنی بیوی کو ان الفاظ ” فوزیہ میں نے تمہیں طلاق دی ” سے ایک طلاق دیکر دورانِ عدت اس سے رجوع بھی کرلیا تھا ، تو وہ رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح بحال ہوچکا تھا ، اور اسی کے ایک سال بعد بقولِ سائل اس نے دوبارہ دوسری طلاق دیکر اس مرتبہ بھی عدت میں رجوع کرلیا تھا ، تو وہ رجوع بھی درست منعقد ہوچکا تھا ، تاہم اس کے بعد محض ایک طلاق کا حق سائل کے پاس باقی رہ گیا تھا ، چنانچہ اب جب سائل نے سوال میں ذکر کردہ تاریخ کو باقاعدہ کورٹ کے ذریعے سٹامپ پیپر پر تین مرتبہ لکھ کر طلاق دیدی ہے، تو اس سے اس کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہوکر تینوں طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابث ہو چکی ہے ۔ لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ہے ، لہذا اب دونوں کے لئے ایک ہی گھر میں ازدواجی حیثیت سے رہنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت ایام ِ عدت گزار نے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : فإن طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ(البقرۃ : 230)-
و فی الفتاوى الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج1 ، ص 473، ط ماجدیۃ)-
وفیھا أیضاً :الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلخ ( ج 1، ص 468، ط ماجدیۃ )-
و فی الدر المختار : ( و ھی استدامۃ الملک القائم ) بلا عوض ما دامت ( فی العدۃ ) أی عدۃ الدخول حقیقۃ ، إذلا رجعۃ فی عدۃ الخلوۃ ابن کمال إلخ ( باب الرجعۃ، ج 3، ص 398، ط سعید )-
وفی رد المحتار : تحت (قوله طلقت بوصول الكتابة ) أي اليها ( إلى قوله) ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه و عنونه وبعث به إليها فاناها وقع الخ ( ج ٣ ص 246 ط: سعید)۔