محترم ومکرم جناب مفتی محمد نعیم صاحب، مہتمم وشیخ الحدیث جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ!
برائے مہربانی شریعتِ اسلامیہ کی رو سے درجِ ذیل مسئلہ میں ہماری راہ نمائی فرماویں،کچھ غیر منقولہ جائیداد میں نے اپنے کاروبار کی کمائی سے اپنے والد کے نام سے خریدی تھی، بعد میں اس کا مختار نامہ اپنے والد صاحب سے حاصل کر کے اس کا کچھ حصہ اپنے دو بیٹوں کے نام منتقل کیا، جس کے خلاف میرے چھ بھائیوں میں سے پانچ بھائیوں نے عدالت سے رجوع کیا اس وقت میری والدہ بھی حیات تھی، جبکہ ہماری کوئی بہن نہیں، اس معاملے میں ہمارے بڑے بھائی کی سر براہی میں سب بھائی اور والدہ صاحبہ عدالت میں حاضر ہوئے اور عدالت کے روبرو حاضر ہو کر بڑے بھائی اپنے حصے سے دست بردار ہوئے اور عدالت کو اپنا تحریری بیان 19/2/1990 کو دیا۔ اور اس طرح باہمی صلح سے جائیداد ہم پانچ بھائیوں میں تقسیم ہوئی۔ جبکہ ہماری والدہ صاحبہ نے اپنا حصہ نہیں مانگا۔ اب مذکور بڑے بھائی جو کہ فوت ہو چکے ہیں اس کی بیوی اور دو بیٹیاں اس جائیداد میں اپنا حصہ بطور وراثت مانگتی ہیں کیا مذکورہ بالا حقائق کی رو سے وہ اس کی حقدار ہیں یا نہیں والسلام۔
مذکور جائیداد اگر واقعۃً سائل نے اپنی ذاتی رقم سے خریدی ہو اور پھر محض احتراما والد کے نام کیا ہو اور اس پر انہیں مالکانہ قبضہ اور تصرفات کا اختیار بھی نہیں دیا ہو، بلکہ مالکا نہ تصرف سے قبل ہی والد موصوف سے مختار نامہ بھی بنوا لیا تھا تو اس صورت میں یہ تمام جائیداد سائل کی ملکیت ہے اور وہ اس میں اپنی مرضی سے تصرفات کرنے کا بھی مجاز ہے، بھائی وغیرہ کا اس میں دعوے کا کوئی حق نہیں، تاہم اگر وہ اس میں سے کچھ اپنے بھائیوں یا ان کی اولاد کو بھی تبرعاً دیدے تو اس پر اسے اجر و ثواب ملے گا۔
کما في الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض اھ (4/ 374)۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
و في شرح المجلة: كل يتصرف في ملكه كيف شاء.... لأن كون الشيء ملكاً لرجل يقتضى ان يكون مطلقاً في التصرف فيه كيف ما شاء (المادة ١١٩٢ ج: ٤ ص: ۱۳۲)۔