کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نے اپنے بھائی کو بیٹی کے رشتے کے حوالے سے کہا کہ اگر آپ نے اس بیٹی کا رشتہ فلاں شخص سے کیا ،تو میں تمہارے گھر اور قبر پر بھی نہیں آؤں گا ،اگر آیا تو تین شرائط سے میری بیوی طلاق ہے، اور ساتھ میں اس لڑکے کو مارنے کا بھی کہا ہےکہ اگر اس کو قتل نہ کیا ،تو بھی میری بیوی طلاق ہے، اب اس لڑکی کا رشتہ اسی لڑکے سے طے کیا ہے، لیکن یہ رشتہ والد نے طے نہیں کیا ہے ،بلکہ لڑکی نے اپنے ماموں کو ولی بنا کر اس لڑکے سے رشتہ طے کیا ہے ،والد کا کہنا ہے کہ بچی کے جس ماموں نے رشتہ کرایا ہے، اس نے پہلے مجھ سے پوچھا تھا کہ یہ رشتہ میں کرتا ہوں، اس پر میں نے کوئی جواب نہیں دیا، نہ ہاں میں اور نہ ہی نہ میں، لہذا آپ اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں کہ اگر یہ بھائی اس کے گھر جائے، تو طلاق کا کیا حکم ہے ؟اور اس قتل کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس کا شرعی حل بھی بیان فرمائیں کہ کس طرح اس گھر کے ساتھ تعلق اور آنا جاناہو؟
دوسرا اگر جس بھائی کی یہ بچی ہے، اگر وہ اپنا مکان اپنے کسی بچے کو ہبہ کر دے ،تو اس صورت میں اس گھر میں جانے کا کیا حکم ہے ؟والسلام
نوٹ: سائل سے فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ سائل کی مراد مذکور رشتہ کرنے پر اعتراض تھا ،جو کہ اب بھی اعتراض باقی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنے بھائی کو مذکور لڑکے کے ساتھ اس کی بیٹی کا رشتہ کرنے سے منع کرتے ہوئے یہ کہا کہ" اگر آپ نے اس بیٹی کا رشتہ عبدالعمر سے کیا ،تو میں تمہارے گھر اور قبر پر نہیں آؤں گا ،اگر آیا تو تین شرائط سے میری بیوی طلاق ہے"تواس سے سائل کی بیوی پر تین طلاق معلق ہو چکی تھیں ، لیکن یہ طلاق چونکہ سائل کے بھائی کے رشتہ کرانے کے ساتھ مشروط تھی،لہذا لڑکی کا اپنے ماموں کو رشتہ طے کرانے کا وکیل بنا کر مذکور لڑکے کے ساتھ باقاعدہ رشتہ طے کراتے وقت لڑکی کےوالد سے پوچھنے کےباوجود اس نے نہ" ہاں"میں جواب دیا ہو ،اور نہ ہی" ناں" میں جواب دیا ہو،بلکہ واقعۃً خاموشی ہی اختیار کی ہوتوایسی صورت میں اس کا رشتہ کرانے کی نسبت سائل کے بھائی کی طرف نہیں کی جاسکتی،اس لئے اس کا رشتہ ہونے کے باوجود بھی یہ تعلیق مؤثر نہ ہوگی،اور سائل کے اپنےبھائی کے گھریا اس کی وفات کی صورت میں اس کی قبر پر جانےسے شرعاً کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،
البتہ سوال میں مذکور دوسرا جملہ " اگر اس کو قتل نہ کیا تو میری بیوی کو طلاق ہے"،اگر مستقل طور پر کہا گیا ہو،اس کا تعلق خاص سائل کے بھائی کے رشتہ کرانے سے نہ ہوتو ایسی صورت میں اس جملے سےاگرچہ فی الوقت سائل کی بیوی پر تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ جب تک (سائل اور مذکور لڑکا )دونوں زندہ ہیں،تو کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،البتہ اگر مذکور لڑکا اپنی طبعی موت مرجائے ،یا سائل کا انتقال ہوجائے،یا انتقال تو نہ ہو،لیکن وہ اس قدر بیمار اور ضعیف ہوجائے کہ قتل کرنے کی طاقت ہی نہ رہے،تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی ،اور زندہ رہنے کی صورت میں اسے عدّت کے اندر اندر رجوع کا حق حاصل رہے گا، اگر عدّت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو نکاح برقرار رہے گا ،اور آئندہ کے لئے اس کے پاس فقط دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
کمافی رد تحتہ: فظهر أن مرادنا بانصراف الكلام إلى العرف إذا لم تكن له نية وإن كان له نية شيء واللفظ يحتمله انعقد اليمين باعتبارہ اھ وتبعه في البحر وغيره ۔۔۔ مبحث مهم في تحقيق قولهم: الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض الخ،(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: لا على الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر، ولهذا قال في تلخيص الجامع الكبير وبالعرف يخص ولا يزاد حتى خص الرأس بما يكبس ولم يرد الملك في تعليق طلاق الأجنبية بالدخول اهـ ومعناه أن اللفظ إذا كان عاما يجوز الخ فالغرض العرفي يخصص عمومه، فإذا أطلق ينصرف إلى المتعارف، بخلاف الخارجة عن اللفظ كما لو قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق، فإنه يلغو ولا تصح إرادة الملك أي إن دخلت وأنت في نكاحي وإن كان هو المتعارف لأن ذلك غير مذكور، ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا.إذا علمت ذلك فاعلم أنه إذا حلف لا يشتري لإنسان شيئا بفلس فاللفظ المسمى وهو الفلس معناه في اللغة والعرف واحد، وهو القطعة من النحاس المضروبة المعلومة فهو اسم خاص معلوم لا يصدق على الدرهم أو الدينار فإذا اشترى له شيئا بدرهم لا يحنث وإن كان الغرض عرفا أن لا يشتري أيضا بدرهم ولا غيره ولكن ذلك زائد على اللفظ المسمى غير داخل في مدلوله فلا تصح إرادته بلفظ الفلس، وكذا لو حلف لا يخرج من الباب، فخرج من السطح لا يحنث، وإن كان الغرض عرفا القرار في الدار وعدم الخروج من السطح أو الطاق أو غيرهما، ولكن ذلك غير المسمى ولا يحنث بالغرض بلا مسمى، اھ(۷۴۳/۳)۔
وفی الدر المختار:ولو حلف لا يزوج عبده أو أمته يحنث بالتوكيل والإجازة لأن ذلك مضاف إليه متوقف على إذنه لملكه وولايته وكذا الحكم في ابنه وبنته الصغيرين لولايته عليهما ولو كانا كبيرين لا يحنث إلا بالمباشرة لعدم ولايته عليهما بل هو كالأجنبي عنهما فيتعلق بحقيقة الفعل وهو مباشرته العقد (3/815)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0