شوہر نے بیوی کو سارے گھر والوں کو یہ جھوٹ بولنے کو کہا کہ اسکے شوہر نے اسےطلاق دےدی ہے،شوہر نے نا طلاق دی اور نہ ہی ارادہ کیا، بس بیوی کو جھوٹ بولنے کو کہا،کچھ وقت بعد شوہر نے بیوی کو کہا کہ وہ سب کو کہے کہ اسکے شوہر نے اسے اختیارات دیے ہیں طلاق تفویض کے، اور اس نے وہ استعمال کر لیے، جبکہ شوہر نے کوئی حق نہیں دیاتھا،پھر کچھ وقت بعد شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دی اور 3 ماہ کے اندر ہی رجوع کرلیا،پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد شوہر نے بیوی سے کہاکہ وہ اسے طلاق بائن دیگا، اور پھر عدت گزرنے کے بعد تجدید نکاح کریگا ،مگر شوہر نے عدت گزرنے کے بعد نکاح سے انکار کردیا ،پھر چھ سال بعد شوہر نے بیوی سے تجدید نکاح کرلیا۔اس میں رہنمائ فرمائیں کیا انکا تجدید نکاح شرعاً جائز حالت میں ہوا ہے یا نہیں؟ اور انکے بیچ کتنی طلاق واقع ہوچکی ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے خود سے طلاق کا جھوٹا اقرار نہ کیا ہو، بلکہ یہ جھوٹا اقرار اس نے بیوی سے کہلوایا ہو، تو ایسی صورت میں اس بیوی کے جھوٹے اقرار سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ اس کے بعد شوہر نے ایک طلاق رجعی دے کر دوران عدت رجوع کرکے دوبارہ ایک طلاق بائن دے دی ہو، تو اس سے سائلہ پر دو طلاقیں واقع ہوگئی تھیں، چنانچہ ان کا اب باہمی رضامندی سے شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر تجدید نکاح کرکے ساتھ رہنا اگرچہ درست ہوا ہے، لیکن آئندہ شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا، چنانچہ جب کبھی تیسری طلاق بھی دیدے گا، تو سائلہ پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکے گا، اور نہ ہی تجدید نکاح،اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے،جبکہ طلاق کے معاملات مزاح اور تفریح کا ذریعہ نہیں، جس سے کھیلا جائے، بلکہ یہ پر خطر راستہ ہے، اس لئے اسے کھیل کھود کا ذریعہ بنانے سے بھی اجتناب لازم ہے۔
کما فی سنن ابن ماجہ: حدثنا محمد بن یحیی حدثنا یحیی بن عبد اللہ بن بکیر (إلی قولہ) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال: يا رسول الله، سيدي زوجني أمته، وهو يريد أن يفرق بيني وبينها، قال: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فقال: «يا أيها الناس، ما بال أحدكم يزوج عبده أمته، ثم يريد أن يفرق بينهما، إنما الطلاق لمن أخذ بالساق» الحدیث (کتاب الطلاق، باب طلاق العبد، ص 428، ط: البشری)۔
وفی الدر المختار: (ومحلہ المنکوحۃ) وأھلہ زوج عاقل بالغ مستیقظ الخ(کتاب الطلاق، ج 3،ص 230، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (لایقع طلاق المولی علی إمرأۃ عبدہ) لحدیث ابن ماجہ "الطلاق لمن أخذ بالساق" الخ(کتاب الطلاق، ج 3، ص 242، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: و إذا طلق الرجل إمرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ أو تطلیقتین فلہ أن یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک أو لم ترض کذا فی الھدایۃ الخ(الباب السادس فی الرجعۃ، ج 1، ص 470، ط: ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضاً: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ(فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الفقہ الإسلامی و أدلتہ: أما الطلاق الرجعی فھو الذی یملک الزوج بعدہ إعادۃ المطلقۃ إلی الزوجیۃ من غیر حاجۃ إلی عقد جدید ما دامت فی العدۃ، و لو لم ترض، و ذلک بعد الطلاق الأول و الثانی غیر البائن الخ(المبحث الخامس أنواع الطلاق الخ، ج 7، ص 413، ط: رشیدیۃ)۔
وفی الھدایۃ: وإذا کان الطلاق بائناً دون الثلاث فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائھا الخ(باب الرجعۃ، ج 2، ص 399، ط: شرکت علمیۃ)۔