السلام علیکم
مفتی صاحب! ایک بچہ ہے دس یا گیارہ سال کا،وہ رات کو اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ سو رہاتھا ،ماں کے مطابق ” اس نے میری شلوار اتارنے کی کوشش کی ہے“۔اس سے کہیں حرمت تو ثابت نہیں ہوتی؟ پلیز رہنمائی فرما دیں۔جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں سوتیلی ماں نے اس کے ساتھ سونے والے مذکور بچے کے جسم کی حرارت بھی محسوس کی ہو، نیز بچے کے شہوت میں ہونے اور حالتِ بیداری میں ہونے کا بھی اسے یقین یا ظنِ غالب ہو، بایں طور کہ اس نے بچے کے عضو ِخاص کی ایستادگی اور انتشارمحسوس کر لیا ہو، اور پھر ان تمام باتوں کے بعد جب اس نے یہ بات بچے کے والد یعنی اپنے شوہر کو بتائی ہو، اور اس نے تصدیق کر لی ہو کہ ہاں تم سچ کہہ رہی ہو تو ایسی صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کی بنا پر مذکور سوتیلی ماں بچے کے باپ پر حرام ہو گئی ہے۔ اور اگر درجِ بالا شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی گئی ہو ، خاص طور پر جب شوہر سے اس نے واقعہ بیان کیا ہو، اور شوہر نے اس واقعہ کی تصدیق نہ کی ہو، تو پھر حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔
کما فی اللباب فی شرح الکتاب:(والصبي المراهق) وهو الذي تتحرك آلته وتشتهي وقدره شمس الإسلام بعشر سنين (في التحليل كالبالغ) لوجود الوطء في نكاح صحيح، وهو الشرط، وإنما عدم منه الإنزال وهو ليس بشرط فكان بمنزلة المسلول والفحل الذي لا ينزل الخ ( کتاب الرجعۃ ج3 ص 58 ط: المکتبۃ العلمیۃ-بیروت)۔
و فی الھندیۃ: رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج.( الفصل الثالث القسم الثانی المحرمات بالصهرية ج:1 ص:276 ط:رشيدية)۔