بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال برائے فتویٰ – طلاق کے وقوع کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته!
میری شادی کو تقریباً 16 سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران کئی بار میرے شوہر نے مجھے گھر سے نکالا اور طلاق کی دھمکیاں دیں۔ ہر بار میرے والدین نے عزت کی خاطر صلح کروا کر مجھے واپس بھیجا۔
تقریباً 3 سال قبل میرے شوہر نے مجھے ایک تحریری پیغام بھیجا، جس میں درج تھا:
"میرا اور تمہارا راستہ الگ ہے"
اس کے بعد اس نے نہ رجوع کیا، نہ مجھے واپس بلایا، اور نہ ہی کسی قسم کا تعلق رکھا۔
اسی عرصے میں اس نے گواہوں کے سامنے یہ بھی کہا:
"اگر میرے پیسے لیے تو میں طلاق دے دوں گا"
ان تین سالوں میں ہمارا کوئی تعلق یا بات چیت نہیں ہوئی، اور میں اپنے والدین کے گھر میں مقیم ہوں۔
اب میرے سوالات یہ ہیں:
کیا مذکورہ الفاظ "میرا اور تمہارا راستہ الگ ہے" سے طلاق واقع ہو گئی؟
اگر الفاظ کنایہ تھے تو کیا نیت طلاق کی تھی؟ اور اگر نیت طلاق کی تھی، تو کیا تحریر سے طلاق ہو جاتی ہے؟
تین سال کے اس عرصے میں شوہر کی طرف سے کوئی رجوع نہ کرنے کی صورت میں کیا نکاح باقی ہے؟
کیا میں اب شرعاً آزاد ہوں؟
اس تمام صورتحال میں میری شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا عدت گزارنا ضروری ہے؟
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی شرعی رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیرا
صورت مسؤلہ میں مذکور الفاظ "میرا اور تمہارا راستہ الگ ہے" سے طلاق کا واقع ہونا یا نہ ہونا شوہر کی نیت پر موقوف ہے ، چنانچہ سائلہ کےشوہر نے اگر یہ الفاظ طلاق کی نیتسے لکھے ہوں ،تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور عدت گزرنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،البتہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں، تو باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب وقبول کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں.تاہم شوہر کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،بشرطیکہ اس سے قبل طلاق نہ دی ہو،لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
لما فی الھدایۃ : وأما الضرب الثاني وهو الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال "(کتاب الطلاق ،باب الطلاق قبل الدخول، ج:2 ،ص:73 ،ط:شرکت علمیہ )
و فیہ ایضا : وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء " لقوله تعالى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228] (باب العدۃ ،ج:2 ، ص:274 ، ط: شرکت علمیہ )و فی الدر: (كِنَايَتُهُ) عِنْدَ الْفُقَهَاءِ (مَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ) أَيْ الطَّلَاقِ (وَاحْتَمَلَهُ) وَغَيْرَهُ (فَ) الْكِنَايَاتُ (لَا تَطْلُقُ بِهَا) قَضَاءً (إلَّا بِنِيَّةٍ أَوْ دَلَالَةِ الْحَالِ)(کتاب الطلاق، باب الکنایات،ج:3،ص :297 ،ط:سعید)