کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) :امام پر سجدہ سہو لازم تھا، قعدۂ اخیرہ درود پڑھنے کے بعد یاد آیا، پھر دائیں طرف سلام پھیرے بغیر دو سجدے سہو کے کر لیے، اس کے بعد تشہد پڑھے بغیر سلام پھیر کر نماز سے علیحدہ ہو گیا۔
کیا ایسا کرنے سے نماز ہو گئی ہے؟ (۲) :کیا سجدۂ سہو کے لئے سلام پھیر کر سجدہ کرنا ضروری ہے؟ (۳) سجدۂ سہو سے پہلے پڑھی گئی تشہد واجب ہوگی یا بعد والی ؟ بحوالہ جواب ارسال فرمائیں۔ شکریہ
مذکور امام صاحب موصوف کو چاہیئے تھا کہ سلام کے بعد سجدۂ سہو ادا کرتے، تاہم اگر اس نے سلام سے قبل سجدہ سہو ادا کیا ہے، تو بھی سجدہ سہو ادا ہو چکا ہے اور نماز بھی درست ہو چکی ہے، جبکہ امام موصوف نے سجدہ سہو کے بعد قصداً تشہد چھوڑ دیا ہو تو ایسا کرنا گناہ ہے، مگر اس سے نماز فاسد نہ ہوگی، بلکہ نماز ادا ہو چکی ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: ومحله بعد السلام سواء كان من زيادة أو نقصان ولو سجد قبل السلام أجزأه عندنا هكذا رواية الأصول ويأتي بتسليمتين هو الصحيح كذا في الهداية (1/ 125)۔
و في الفتاوى الهندية: قال في الفتاوى القعدة بعد سجدتي السهو ليست بركن وإنما أمر بها بعد سجدتي السهو ليقع ختم الصلاة بها حتى لو تركها فقام وذهب لا تفسد صلاته كذا قاله الحلواني كذا في السراج الوهاج (1/ 126)۔