کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا اپنے شوہر کے ساتھ لڑائی تکرار مختلف باتوں پر چلتا رہا، اسی طرح ایک دن صبح کے وقت کچھ لڑائی تکرار ہوا، جس کے بعد میں ا وہ کہنے لگاکہ میرا تمہارا معاملہ ختم ہے، تم اپنے بھائیوں کے گھر جاؤ، میں نے کہا کہ بھائیوں کے گھر کیسے جاؤں ؟ نہیں رکھنا تو مجھے طلاق دو، میرےاس مطالبہ پر وہ کہتے ہے کہ تم مجھ پر طلاق والی ہو، پشتو میں الفاظ تو یہ تھے کہ ’’تہ پہ ماطلاقہ ئے‘‘ اور یہ چار دفعہ بولا، یہ میرا بیان حلفی ہے اور اگر میں نے اس میں جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر اللہ تعالی کی لعنت اور قہر و غصب نازل ہو۔
بیان شوہر مسمی ۔۔۔۔۔
میں اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر یہاں حلفی بیان دیتا ہوں، اگر میں نےجھوٹ بولا ہو تو مجھ پر اللہ تعالی کی لعنت اور قبر و غصب نازل ہوں، میں نے یہ الفاظ نہیں کہے۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ اور جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں بیوی مسماۃ۔۔۔ اپنے شوہر پر اسے چار مرتبہ غیر معلق طلاق دینے کا دعویٰ کرتی ہے، جبکہ شوہر مسمی ۔۔۔اس سے منکر ہے، جب ایسی صورت حال ہو جائے کہ عورت وقوع طلاق کے الفاظ کو اپنے کانوں سے سننا بیان کرے، اور وہ اس پر حلف بھی اٹھاتی ہو، اور اس کا یہ بیان واقعۃً بھی درست ہو ، لیکن شوہر اب غیر معلق تین طلاق دینے سے انکاری ہو ،اور وہ بھی اس پر خلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کے لیے تیار ہوتو المراۃ کا لقاضی کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھتے ہوئے شخص مذکور کو قطعاً اپنے اوپر قدرت نہ دے، البتہ اگر یہ معاملہ قاضی ( جج) کی عدالت میں چلا جائے، اور عورت اپنے دعویٰ پر گواہ پیش نہ کر سکے، اور قاضی مدعیٰ علیہ یعنی خاوند کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر اسے خاوند کے ساتھ بھیج دے، تب بھی بیوی کو چاہیے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ ایسی صورت میں وہ شوہر کو عقد خلع یا طلاق بالمال پر رضامند کر کے اس سےچھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله دين فقط) (إلی قوله) والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. و في البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. (3/ 251) والله اعلم بالصواب