کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ خان زادہ ولد نیک محمد سکنہ میٹرول میں 1997 میں اپنے بیٹے شیرباز کی منگنی مسماۃ بی بی حوا بنت حاجی نعیم کے ساتھ کرائی، اور 1999 میں باقاعدہ نکاح ہوا، اور ساتھ رخصتی بھی ہو گئی ،اور اس کے بدلے وٹہ سٹہ کے طور پر میں نے اپنی نابالغ بچی ان کو دی تھی، اور انہوں نے بھی باقاعدہ نکاح کیا تھا، اور حقِ مہر بھی مقرّر ہوا تھا ، اس رخصتی کے بعد تقریباً ساڑھے چار سال تک میری بہو میرے گھر میں رہی، لیکن اس شادی کے بعد محلہ کے کسی انجان مرد کی جانب سے گھر کی پی سی ایل نمبر پر فون آگیا اور گالم گلوچ شروع کردی ،اور یہ سلسلہ چلتا رہا،کبھی میرے بیٹے کے نمبر میں فون کر کے گالی دیتا تھا، اور کبھی میرے نمبر پر کال کر کے گالم گلوچ کرتا تھا، ہمارا دوبئی میں بھی کاروبار ہے، تو وہاں بھی فون کا سلسلہ جاری رہا ، اس لئے میں نے وہاں پولیس اسٹیشن میں اس نامعلوم شخص کے خلاف رپورٹ درج کرائی ،اور کچھ عرصہ بعد دبئی پولیس نے اسے گرفتار کر کے مجھے اطلاع دیدی ،میں جیسے پولیس اسٹیشن پہنچا ،تو انہوں نے اس ملزم کو میرے سامنے بٹھا دیا، میں نے ان سے پو چھا کہ مجھے جانتے ہو تو اس نے کہا نہیں،پھر پوچھا میرے بیٹے کو جانتے ہو انہوں نے کہا نہیں، اور میں نے بھی کبھی اسے نہیں دیکھا تھا، یہ بھی واضح ر ہے کہ اس فون کے دوران جب یہ شخص گالم گلوچ کرتا تھا، تو ایک دن میں نے ان سے کہا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ،آپ کا مقصد کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ گھر میں موجود میری بیٹی کا نام لیا جو میں نے وٹہ سٹہ میں نعیم کے بیٹے رشید کو دی تھی کہ یہ مجھے نکاح میں دیدو ،تم میرے سسر بن جاؤں گے ،اور میری بیوی کا نام لے کر کہا کہ وہ ساس بن جائیگی ، تو پولیس اسٹیشن میں ملاقات کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ جب ہمیں نہیں دیکھا تو یہ سب نام کیسے جانتے ہو، اور ہمارے نمبر ز تمہیں کس نے دیے ہیں ؟ تو انہوں نے جواب میں میرے بہو بی بی حواء کا نام لیا کہ انہوں نے دیا ہے، اور ساتھ ایک تصویر بھی دیکھا دی کہ جس میں ایک طرف میری بہو ہے ،اور ساتھ یہ ملزم ہے، اور ایک لڑکی ہے ۔ اور وجہ انہوں یہ بتائی کہ آپ کے بیٹے کے ساتھ رخصتی تک میرا اس کے ساتھ اور اس کے گھر والوں کے ساتھ رابطہ رہا ہے اور انہوں نے اس کے بدلے مجھ سے بہت پیسے کھائے ہیں ، اور رخصتی کے موقع پر بھی میں نے انہیں منع کیا تھا کہ ایسا نہ کرنا یہ لڑکی مجھے دیدو، لیکن انہوں میری بات نہیں سنی، جس کی وجہ سے میں نے تم لوگوں کو بھی تنگ کرنا شروع کر دیا ۔
جس کے بعد میں نے اپنے بھائی اور بیٹوں کے ساتھ یہ پوری تفصیل شیئر کی ، اور بعد میں مختلف جگہوں سے معلوم کرکے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ میں اپنی بہو مسماۃ حواء بنت نعیم کو ان کے والد کے ہاں چھوڑ دوں، اور شادی کے تقریباً ساڑھے چار سال بعد ہم نے انہیں ان کے والد کے گھر چھوڑ دیا اور اس کے بعد میرے بیٹے مسمیٰ شیرباز نے طلاق بھی دے دی ہے ،اور طلاق نامہ ارسال کر دیا ہے۔
لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ وٹہ سٹہ میں جو بیٹی میں نے دی تھی ،اور باقاعدہ نکاح بھی ہوا تھا ،اب ان کا مطالبہ ہے کہ بچی ہمارے حوالے کردو، حالانکہ نعیم جس بیٹے کے ساتھ میری بیٹی کا نکاح ہوا تھا ، انہوں نےدوسری شادی کر لی ہے، اور اس سے اس کی اولاد بھی ہے ۔ لیکن اس معاملہ کے درمیان میں آنے کی وجہ سے چونکہ دونوں خاندانوں کے درمیان کے اختلافات کافی حد تک بڑھ گئے، اور انہوں نے تقریباً مکمل دشمنی کا اعلان کر دیا ہے، اور یہاں سے افغانستان منتقل ہو چکے ہیں، اور کچھ عرصہ قبل یہاں میٹرویل میں ہمارے گھر پر فائرنگ بھی ہو چکی تھی، ہم نے اُن سے کافی مرتبہ مطالبہ کیا کہ وہ ہماری بیٹی کو آزاد کر دے، لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں، بلکہ ان کی چاہت یہ ہے کہ وہ ہماری بیٹی کو رخصت کر کے عرصہ تین چار سال کے لئے ساتھ رکھیں، اور اولاد ہونے کے بعد اسے چھوڑ کر ہمارے گھر بھیج دیں، جیسا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ ہوا ، لیکن اس کی بیٹی کے معاملہ میں ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ ہماری طرف سے کوئی زیادتی نہ ہو، لیکن درجِ بالا صورتِ حال کے بعد ہمارے لئے اسے گھر میں رکھنا بہو اور بیوی کے درجہ میں ممکن نہیں تھا، تو ہم نے کسی کے سامنے اس پوری صورت حال کا ڈنڈھورا کیے بغیر باعزت طریقے سے اسے گھر چھوڑ آئے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے پوری محلہ اور خاندان میں اس کی تشہیر کروائی ہے۔
اب اس صورت حال کے تناظر میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کو شرعی طریقہ سے آزادی مل جائے، تاکہ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں کے بارے میں آزاد ہو ۔
نوٹ: یہ بھی واضح رہے کہ میری بہو مسماۃ حوا بی بی کے اس پورے کردار اور روابط پر پورے گھر والے باخبر تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمیں اس سے لاعلم رکھا، جس کی وجہ سے ہم عرصہ ۱۶، ۱۷ مہینے اس ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا رہے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت اور اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ فریقِ ثانی کا اس نکاح و رخصتی سے مقصد صرف سائل اور اس کی بیٹی کو تکلیف اور اذیت دینا ہو، گھر بسانا مقصد نہ ہو ، تو ایسی صورت میں سائل اپنے داماد سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنی بیٹی کو آزاد کر اسکتا ہے ، اگر وہ طلاق بالمال یا خلع پر بھی راضی نہ ہو تو سائل برادری کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر ان کے ذریعہ سے یا کچھ عدالت کے ذریعہ طلاق یا خلع لے سکتا ہے ، چنانچہ لڑکا جب پنچائیت کے کہنے اور مجبور کرنے سے یا عدالت کے مجبور کرنے سے طلاق دیدے گا، تو شرعاً یہ طلاق واقع ہو کر نکاح ختم ہو جائیگا۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما ولم يقل إن يريدا فرقة وإنما يوجه الحكمان ليعظا الظالم منهما وينكرا عليه ظلمه وإعلام الحاكم بذلك ليأخذ هو على يده فإن كان الزوج هو الظالم أنكرا عليه ظلمه وقالا لا يحل لك أن تؤذيها (الى قوله) ( فاذا جعل كل واحد منهما إلى الحكم الذي من قبله ماله من التفريق والخلع كانا مع ما ذكرنا من أمرهما وكيلين جائز لهما أن يخلعا إن رأيا وأن يجمعا إن رأيا ذلك صلاحا فهما في حال شاهدان و في حال مصلحان و في حال آمران بمعروف وناهيان عن منكر اھ (3/ 154)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ومن محاسنه التخلص به من المكاره) أي الدينية والدنيوية بحر: أي كأن عجز عن إقامة حقوق الزوجة، أو كان لا يشتهيها. (3/ 229)۔
وفيه ايضا : (قوله: فإن تيقنه) أي تيقن الجور حرم؛ لأن النكاح إنما شرع لمصلحة تحصين النفس، وتحصيل الثواب، وبالجور يأثم ويرتكب المحرمات فتنعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد بحر وترك الشارح قسما سادسا ذكره في البحر عن المجتبى وهو الإباحة إن خاف العجز عن الإيفاء بموجبه. اهـ. أي خوفا غير راجح، وإلا كان مكروها تحريما؛ لأن عدم الجور من مواجبه (3/ 7)۔
وفيه ايضا : لهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى (3/ 228)۔
وفى الفتاوى الهندية: والأصل أن تصرفات المكره كلها قولا منعقدة عندنا إلا أن ما يحتمل الفسخ منه كالبيع والإجارة يفسخ وما لا يحتمل الفسخ منه كالطلاق والعتاق والنكاح والتدبير والاستيلاد والنذر فهو لازم كذا في الكافي اھ (5/ 35)۔